جھونپڑی یا پھر عالیشان محل

معمول کے مطابق آج بھی صبح کی نماز،ذکر و اذکاراور ناشتہ سے فارغ ہوکر مدرسہ کی جانب نکل پڑا تھا۔مدرسہ اور گھر کے درمیان تقریباً بیس منٹ کی مسافت ہے۔یہ سفر مکمل پیدل مارچ پر مشتمل ہوتا ہے۔اسی درمیان بہت سے نظارے ہوتے ہیں،ایک نظارہ ایسا ہے کبھی بھولتا نہیں۔ اسے بار بار دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔ جس سے مجھے ایک ہمت،حوصلہ اور جذبہ ملتا ہے۔

یہ شریف بابا اور انکی بیگم صاحبہ ہیں جو صبح سویرے دوسرے لوگوں سے بھی پہلے بازار پہنچ جاتے ہیں۔شریف بابا فجر سے پہلے ہی منڈی سے فروٹ خریدنے نکل پڑتے ہیں۔یہاں ان کی بیگم صاحبہ شریف بابا کے واپس آنے سے پہلے ہی ٹھیلے پر ناشتہ لیکر پہنچ جاتی ہیں۔ناشتہ بھی کوئی شاہانہ نہیں۔رات کی بچی ہوئی روٹی کے ٹکڑے اور چائے۔شریف بابا کے آنے تک ٹھیلے کی اور ارد گرد کی صفائی خود کرلیتی ہیں تاکہ تھکے ہوئے شریف بابا کو مزید تکلیف نہ ہو۔

شریف بابا منڈی سے لائے ہوئے فروٹ ٹھیلے پر ایک مہارت سے سجاتے ہیں پھر دونوں میاں بیوی بیٹھ کر ساتھ ہی ناشتہ کرتے ہیں۔ناشتے کے بعد شریف بابا کی بیگم بجائے گھر جانے کے وہیں بیٹھ جاتی،شریف بابا کا کام میں ہاتھ بٹاتی،فروٹ بکنے تک دونوں میاں بیوی وہیں بیٹھے رہتے۔ آپس میں گپیں ہانکتے اور قہقے لگاتے،انہیں اس حالت میں میں دیکھ کر ہر دیکھنے والا عش عش کر اٹھتا۔شریف بابا کی کوئی عالیشان کوٹھی نہیں،لکڑیوں و چادروں سے ڈھکی ایک جھونپڑی ہے۔کاروبار بھی کوئی لاکھوں یا کروڑوں کا نہیں بس اتنا کہ دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی میسر ہوجائے۔بڑی بڑی کوٹھیوں والے بھی جب شریف بابا کی بیگم کو اتنے معمولی حالات میں اتنا خوش دیکھتے تو یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے،”واقعی وہجھونپڑی جہاں عورت مسکراتی ہے اس عالیشان محل سے بہتر ہے جہاں عورت روتی ہے۔“

اور ایک نظارہ ہمارے سامنے کی گلی میں رہائش پذیر فیملی کا ہے۔ عالیشان مکان مگر ہر وقت لڑائی جھگڑا رہتا ہے۔ خاموشی ہو تو جی گھبراتا ہے کہ اللہ خیر کرے کچھ ہوا تو نہیں ہے۔

روزانہ کی مارپیٹ دیکھ کر ہم میں بھی ہمت نہ کہ جاکر اصل کہانی معلوم کریں۔ آس پاس کے لوگوں کی سنی سنائی باتوں اور کہانیوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ کہانیاں سنانے والوں میں سے ایک معتبر شخص ذاکر بھائی بھی ہیں۔ ذاکر بھائی ان صاحب کے اچھے دوست رہ چکے ہیں۔ ذاکر بھائی کہنے لگے ”ان کی اچھی خاصی نوکری تھی۔ ماہانہ آمدنی لاکھوں میں تھی۔

خوب پیسہ دیکھ کر کچھ لوگ دوست بن کر ان کی محفل میں شامل ہوئے۔ شہر کے بڑے بڑے ریسٹورنٹ پر نت نئے کھانوں کے مزے لیے جاتے رہے یوں دوستی کافی گہری ہوتی گئی۔ آہستہ آہستہ نشہ بھی شروع ہوگیا۔ نشہ کی عادت اتنی بڑھی کہ اب پیئے بنا چین نہیں آتا۔ بری عادت سے جہاں گھر والے اذیت میں مبتلاتھے وہیں کمپنی والے بھی ان کی آئے روز غیرحاضریوں سے تنگ آچکے تھے اور بالآخر ایک دن کمپنی کا بھی لیٹر آگیا اور کمپنی سے فارغ کردیا گیا۔

بے چاری عورت سمجھا سمجھاکر تھک جاتی۔ بڑا بیٹا گھر چھوڑکر کہیں اور جابسا۔اب کمانے والا کوئی نہیں،پیسہ ختم ہوچکا،مرد شراب کیلیے پیسے مانگتا ہے،بیوی کے منع کرنے پر مارتا ہے۔ مجبوراً پیسے دینے پڑتے ہیں۔ گھر میں پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے عورت کے زیورات تک بک چکے بس رحمانی بھائی کیا بتائیں،ذاکر بھائی کی آنکھیں بھی نم ہوچکی تھیں۔ رحمانی بھائی! یہی وجوہات ہیں آئے روز لڑائی جھگڑوں کے،مرد بہت مارتا ہے اس بیچاری کو،مرد کی اذیتیں سہہ سہہ کر وہ بیچاری تو اب نیم پاگل بن چکی ہے۔“

”بس ذاکر بھائی بس،اب مزید کچھ سننے کی ہمت نہیں ہے۔“ذاکر بھائی کی سنائی گئی باتیں اب برداشت سے باہر تھیں۔بہت سی غلط فہمیاں بھی اس مظلوم عورت کے بارے میں ختم ہوچکی تھیں۔دل بھر آیا تھا۔شریف بابا کی فیملی اور اس فیملی کی حالات دیکھ کر میرا ذہن بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا کہ ”واقعی وہ جھونپڑی جہاں عورت مسکراتی ہے اس عالیشان محل سے بہتر ہے جہاں عورت روتی ہے۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں