سوالیہ نظریں- ثناء الیاس

سورج کی کرنیں کھڑکی پر پڑے پردوں میں چھید کرتیں کمرے کی ہر چیز کو سنہری حسن بخشنے کو بیتاب تھیں۔ کھڑکی کے پاس آرام کرسی پہ بیٹھا وہ کمزور اور لاغر شخص سورج کی مغرور اداؤں کو رشک سے دیکھ رہا تھا۔ جیسے جیسے سورج طلوع ہو رہا تھا، اس کی روشنی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ کاش! اذیت کی بھٹی میں سلگتے دل بھی اس سورج کی طرح حکومت کر سکتے۔ انہوں نے کرسی سے ٹیک لگا کر دل میں سوچا اور پھر آنکھیں میچ لیں۔
وہ زندگی کے بارے میں سوچنے لگاکہ دو سوالیہ نظریں اسے اپنے وجود میں پیوست ہوتی محسوس ہوئیں۔ وہ خود کو ماضی میں جانے سے روک رہے تھا لیکن ماضی سے پیچھا چھڑانا اتنا سہل نہیں تھا۔
اس نے خود کو ماضی کے دریا میں بہنے دیا۔ روشن سنہرا منظر سیاہ دھند میں تبدیل ہونے لگا۔ جہاں نصف صدی پہلے چند ہندو ہاتھوں میں تلواریں لئے ایک گھر کا دروازہ زور زور سے بجا رہے تھے۔ اندر ڈری سہمی ماں اپنے بچوں کو لئے پچھلے دروازے سے نکل رہی تھی کہ 18 سالہ احمد ماں کا ہاتھ چھوڑ کر اندر کی جانب اپنے باپ کی آخری نشانی لینے دوڑا تھا۔ ماں پیچھے سے آوازیں دے رہی تھی، ”احمد پتر! وہ لوگ آ رہے ہیں۔“ احمد جب ماں کے پاس آیا تو اس کے ہاتھ میں عطر کی شیشی تھی لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی۔ دروازہ ٹوٹ چکا تھا اور وہ لوگ انہیں گھر سے باہر جاتے ہوئے دیکھ چکے تھے۔ ایک لمحے کی تاخیر نے انہیں مصیبت میں ڈال ڈال دیاتھا۔ ماں، احمد اور دو جوان بیٹیوں کو لئے ان درندوں سے بچنے کی تگ ودو میں اندھا دھند بھاگ رہی تھی اور ساتھ بیٹے سے مخاطب تھی، ”پتر! بھائی بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں، میرے بعد تْو اپنی بہنوں کا محافظ بننا۔“
اندھیرا ہونے کے باعث کسی شے سے ٹھوکر لگنے کی وجہ سے ماں اوندھے منہ زمین پر گری پڑی تھی۔ خون کسی فوارے کی مانند کنپٹی سے بہنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ لٹیرے مسلسل ان کا پیچھا کر رہے تھے۔ بیٹیاں ماں کا بہتا خون دیکھ کر ماں کی طرف لپکیں تھیں۔
اس نے زور دار دھاڑ پر مڑ کر دیکھا تو وہ لوگ ہتھیار پکڑے ان کی طرف آرہے تھے۔ درد کی شدت سے ماں کا چلنا محال تھا۔ بچوں کی خاطر ہمت کر کے اٹھی لیکن چکرا کرگر گئی۔ ایک ان کے سر پر کھڑا تھا۔ اس سے پہلے کہ اس کے ہاتھ بیٹی کے ڈوپٹے تک جاتے ماں اس کی ٹانگوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر چیخی تھی، ”احمد! پتر بہنوں کو لے کر بھاگ جا۔“ بیٹیاں آنسوؤں سے تر چہرہ لیے مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
”بھاگ جا پتر! تجھے تیری ماں کی قسم بھاگ جا!“ ماں کے الفاظ سنتے ہی احمد نے دونوں بہنوں کا ہاتھ پکڑ کر بھاگنا شروع کر دیا۔ ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ انہیں چیخ سنائی دی پیچھے مڑ کر دیکھاتو ماں کا خون میں لتھڑا وجود اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ ماں کی سوالیہ نظریں احمد پر ٹکی تھیں جیسے اس سے پوچھ رہی ہوں کہ کیا تم اپنی بہنوں کو ان ظالموں کی درندگی سے بچا پاؤ گے؟
احمد اپنی ماں کو آخری بار چھونا چاہتا تھالیکن وقت مٹھی سے ریت کی طرح پھسل رہا تھا۔ وہ بہنوں کو لیے تھک کر جھاڑیوں میں چھپ گیا، اچانک بہن کی نظر احمد کے ہاتھ میں پکڑی عطر کی شیشی پر پڑی تھی۔ کسی نے گھسیٹ کر جھاڑیوں سے باہر نکالا۔
احمد نے درخت سے بندھا بے بسی سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے کرب سے آنکھیں بند کر لی تھیں اور اس کی بہنیں اپنے ٹوٹے پھوٹے وجود کو لیے کنویں میں چھلانگ لگا چکی تھیں۔
احمد نے اپنا سب کچھ لٹا کر پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ ماں کی سوالیہ نظریں آج تک اسے اپنے وجود کے آرپار ہوتی محسوس ہوتی تھیں۔جیسے اس سے پوچھ رہی ہوں کہ میری بیٹیاں سسک سسک کر کیوں مر گئیں؟ تم ان کی حفاظت کیوں نہ کر سکے؟ بالآخر ماں کی سوالیہ نظروں کا تعاقب ان کی سانسوں کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا۔
٭……٭……٭

اپنا تبصرہ بھیجیں