صحرائے تھر کی داستان (مریم اقبال)

سندھ کے جنوب مشرق کی طرف بھارتی سرحد سے متصل 22 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط صحرا تھر پاکستان کا سب سے بڑا صحرا سمجھا جاتا ہے۔ صحراءتھر کی آبادی غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 لاکھ کے قریب ہے اور یہاں کے مکین غربت کی وجہ سے سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ اکثر لوگ گھاس سے بنے ہوئے گھروں میں رہتے ہیں جسے مقامی زبان میں چونرا کہتے ہیں۔
یہاں نہ چوری کا ڈر اور نہ ہی ڈکیتی کا خوف، نہ ماحول کی آلودگی کی پریشانی اور نہ ہی اجنبیت کا احساس۔ یہ ہے پاکستان کے صوبہ سندھ کا صحرائے تھر جہاں ثقافت، روایت اور اقدار آج بھی اپنی اصلی شکل میں موجود ہیں۔ تھر کا شمار دنیا کے بڑے صحراو¿ں میں ہوتا ہے، اس کو دوست صحرا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ دیگر صحرائی علاقوں کے مقابلے میں یہاں رسائی آسان ہے۔
تھر کا ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی ہے، یہ شہر ایک خاتون کے نام پر آباد ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہاں مائی مٹھاں نامی خاتون کا کنواں تھا جس میں سے مسافر پانی پیا کرتے تھے۔
تھرپارکر کی ثقافت دنیا بھر بے حد مقبول اور ایک خاص پہچان رکھتی ہے اور دنیا بھر میں تھر میں ہاتھ کی محنت سے بنی چیزیں دوسرے شہروں کی خواتین اور مرد اپنے لباس اور گھر کو سجانے کے لیے تھر پارکر کی منفرد لباس اور روایتی زیورات کا استعمال کرتی ہیں یہاں کی ہاتھ کی بنی اشیا لوگ اپنے دوست، احباب اور رشتے داروں کو تحفے تحائف کی صورت میں دیتے ہیں۔ تھر پارکر میں ہینڈیکرافٹس کا کام دیہات میں کیا جاتا ہے جہاں پر مرد اور خواتین دونوں یے کام کرتے ہیں اور مختلف شہروں ساں دکاندار آ کر خریدتے ہیں۔
تھر میں ہاتھ پرچیزیں بنائی جاتی ہیں اس میں رلی، گج، چادر، تکیہ، رومال، بیڈ کے چادر، مختلف قالین اور دیگر اشیا شامل ہیں جن کی الگ ہی پہچان ہے۔
یہاں کے لوگ ہاتھ کے ہنر پر اپنا وقت اور محنت تو بہت کرتے ہیں لیکن ان کا فائدہ ان محنت والوں کو نہیں ہوتا ہے جتنا دکاندار کو ہوتا ہے دیہات کے لوگوں کے دوسرے شہروں تک پہنچ نہ ہونے سے یہ کم قیمت میں اپنی چیزیں یہاں کے مقامی تاجروں کو دیتے ہیں جو اشیا یہاں سے 3 سو سے ہزار تک خریدتے ہیں وہ آگے مارکیٹ میں 5 سے 10 ہزار بیچتے ہیںیعنی ان محنت کشوں کی قیمت وہ وصول کرتے ہیں اور کھا جاتے ہیں۔
تھر کے محنت کش خواتیں اور مردوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر اشیا کو بیچنے کے لیے مدد مل سکے اور ہنر کی انڈسٹری کو یہاں پر سرگرم کیا جائے تو ہم اچھے طریقے سے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔
اسی سلسلے میں کچھ لوگ جو تھر کے لیے اپنے جذبات رکھتے ہیں وہ بھی محنت کررہے ہیں تاکہ وہ تھر کو ان کے حق دلانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ تھر کارپیٹس اور ہینڈی کرافٹس ایک آرگنائزیشن ہے جو اس کے لیے سرگرم ہے۔ اس آرگنائزیشن کے بانی اور سی ای او مشتاق سنگراسی ہیں اور اندرون سندھ کے باشندوں کو ان کے موجودہ حالات اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرنے کا وژن رکھتے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے اکنامکس اور فنانس میں گریجویشن کرنے کے بعد، IBA سے انٹرپرینیور اسکلز میں ڈپلوما اور پریسٹن یونیورسٹی میں وزٹنگ فیکلٹی ہونے کا تجربہ رکھتے ہوئے ۔ وہ 10 سے زائد سالوں کے اپنے علم اور مہارت کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کے عزائم رکھتے ہیں اور ان کا مقصد تھر واسیوں کو بہتر اور اچھی زندگیاں فراہم کرنا ہے۔
گزشتہ دنوں تھر کے ایک وزٹ کے موقع پر مشتاق سنگراسی سے ملاقات ہوگئی، جب تک ہم نہیں جانتے تھے کہ تھر میں ایسے جذبات بھی موجود ہیں جو تھر کے بہتر مستقبل کے لیے خود کو سرگرم رکھے ہوئے ہیں۔ مشتاق احمد سنگراسی ایک ملنسار اور بہت مشفق بندے ہیں۔ ان سے ملاقات اتفاقا تھی مگر وہ بے مثال صلاحیتوں کے مالک اور خوش اخلاق ٹھہرے۔ اپنی صحافتی ذمے داریوں کو ادا کرتے ہوئے ہمیں لگا کہ کیوں نہ تھر سے متعلق معلومات لی جائے۔ پھر سلسلہ شروع ہوا اور گفتگو بڑھتی چلی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ مقامی کمیونٹی کی بہتری کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور کاروباری تجزیات میں بہتری کے خواہاں ہیں، مقاصد میں تھر کی دستکاری کو پوری دنیا میں لے کر جانا اور تھر واسیوں کو ان کا جائزہ منافع دلانا ہے۔
مشتاق احمد کو اپنے والد سے یہ مقصد ملا، ان کے والد بھی ایک سماجی کاروباری شخصیت تھے، کئی فلاحی کاموں کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔ گاو¿ں میں پہلا پرائمری اور سیکنڈری اسکول کھولنے میں ان کاکردار اہم رہا۔
مشتاق احمد کا خیال ہے کہ کاشتکاری اور جانوروں کے علاوہ بھی آمدن کے ذرائع کا ہونا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ بارش کی عدم دستیابی کے باعث فصلیں تباہ اور جانور مرنے لگتے ہیں جس سے تھر واسی شدید متاثر ہورہے ہیں۔
مشتاق احمد جو کہہ رہے تھے وہ اس کا عملی نمونہ بھی تھے، وہ 10 سال اپنا کام بھی کررہے ہیں اور ساتھ ساتھ ہزاروں تھر واسی جو بے روزگار اور غریب لوگ تھے ان کو بھی ہیلپ آﺅٹ کررہے ہیں اور یہ جذبہ ہر کسی میں نہیں ہوتا۔
باتوں باتوں میں اندازہ ہوا کہ وہ غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ انہیں بین الاقوامی اور قومی شہرت حاصل ہے، وہ پی سی ایم ای اے (پاکستان کارپٹ مینوفیکچرر اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن) کی ایگزیکٹو کمیٹی کا حصہ رہے ہیں اور ایف پی سی سی آئی کے پاک امریکی بزنس کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل رہے ہیں اور اس سال تھر کے قالین اور دستکاری سے متعلق اقوام متحدہ کے تحت ڈبلیو ایس آئی ایس کے 2021ء کے ایوارڈ میں انہیں نامزد بھی کیا گیا ہے۔ یقینا یہ ایک بڑی کامیابی اور ان کے کام سے اخلاص کی بدولت ہے۔
انہوں نے بتایاکہ تھر کے قالینوں اور دستکاری کی پیداوار میں بہتر سے بہتر کو ترجیح دی جاتی ہے،کیوں کہ یہ ایک تھر کی پہچان کا سبب ہے اور اس کے لیے جتنا اچھا ہو وہ کرتے ہیں، ان کی خواتین باصلاحیت ہیں اور وہ کام پر مکمل مہارت رکھتی ہیں۔ خواتین کو کڑھائی، سلائی، ڈیزائننگ اور بہت سے کاموں کی تربیت حاصل ہے۔
ہم جو وہاں کی خواتین کے بنائی ہوئی مصنوعات کو لے کر آتے ہیں ہماری کوشش ہوتی ہے ان کو زیادہ سے زیادہ منافع فراہم کیا جائے اور یہی کام ہم باقی سندھ کے علاقوں میں بھی کررہے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ تھر سمیت سندھ کے دیگر علاقوں میں محنت کش طبقے کو بااختیار بنایا جائے اور وہ خود ہی اپنی بنائی ہوئی چیزوں کو منڈی تک رسائی حاصل کرتے ہوئے بیچے اور منافع حاصل کرے۔ یہ بھی منصوبہ ہے کہ ٹیکنیکل طریقون سے موجودہ پیداواری عمل کو بہتر کیا جائے اور مارکیٹنگ کی وسیع حکمت عملیوں اور موجودہ مارکیٹ کے معیار پر پورا اترتے ہوئے اسے وسیع پیمانے پر لے جایا جائے۔ کسٹمر کو جب دیگر جگہوں کی نسبت زیادہ اور بہتر مال میسر ہوگا تو یقینا اس سے ہمارے کاروبار میں بھی اضافہ ہوگا اور ہم ایک بہتر پوزیشن پر کھڑے ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ مشتاق احمد اپنے کاروبار کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ نئی صنعتوں کو شامل کیا جا سکے، مقامی لوگوں کے لیے پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لیے پانی صاف کرنے کی سہولیات دی جائیں۔ مشتاق اپنے طور پر جو تھر کی ترقی کے لیے کرسکتے ہیں وہ یقینا کررہے ہیں اور یہ بہت ضروری ہے کہ آپ جو کرسکتے ہیں آپ وہ کریں کیوں کہ آپ سے اسی کا سوال کیا جائے گا۔
تھر کی دست کاری کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں دستیاب ہے۔کئی چادریں کھڈی پر بنائی جاتی ہیں جو مشین کی بنی ہوئی چادروں سے زیادہ پائیدار ہوتی ہیں۔ تھر میں لوگوں کی اکثریت اگلو نما کچے کمروں میں رہتے ہیں، ان کی چھتیں گھاس سے بنی ہوئی ہوتی ہیں جو گرمی میں ٹھنڈے رہتے ہیں۔ ہر سال یا دو سال کے بعد ان پر تازہ گھاس لگائی جاتی ہے۔ یہاں پانی عام طور پر کنویں سے حاصل ہوتا ہے جس کے لیے گدھے، اونٹ یا بیل کا استعمال ہوتا ہے۔ کنوو¿ں سے پانی نکالنے کی ذمہ داری مردوں کی ہے جبکہ گھروں تک پانی خواتین پہنچاتی ہیں۔
بدلتے وقت کے ساتھ کئی دیہاتوں میں اب ٹیوب ویل آ گئے ہیں اس لیے سروں پر پانی کے دو سے تین مٹکے رکھ کر چلنے والی خواتین بہت کم نظر آتی ہیں۔
تھر میں قحط ہو یا بارشوں کے بعد کی خوشحالی یہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں۔ اگر آپ کہیں گائوں کے قریب رک گئے ہیں تو مسافروں کی مدد کرنا اور ان کی مہمان نوازی مقامی لوگوں کی روایت میں شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں