عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز، ‘خواجہ معین الدین کی یاد میں’ سیشن کا انعقاد

کراچی، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چودہویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز ‘خواجہ معین الدین کی یاد میں’ سیشن کا انعقاد کیا گیا جسکی نظامت میثم نقوی نے کی۔ اس موقع پر سینیئر اداکار منور سعید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا جنہیں خواجہ معین الدین کے نام سے جانتی ہے میں انہیں خواجہ بھائی کہتا ہوں کیونکہ انہوں نے مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح پیار دیا ہے۔

وہ بابائے ڈرامہ کہلاتے ہیں، چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہ حیدرآباد دکن سے تشریف لائے۔ خواجہ معین نے پہلا ڈرامہ ‘زوال حیدرآباد’ لکھا۔ اسکے بعد دوسرا ڈرامہ’ نیا نشان’ تحریر کیا۔ جس پر ہندوستان میں کچھ ہنگامہ بھی ہوا اور وہ ڈرامہ یہاں پر بند کرنا پڑا۔ بعد ازاں مولوی عبد الحق نے معین بھائی کو بلا کر کہا کہ اردو ترقی کی پچاسویں سالگرہ پر ڈرامہ لکھی اور انہوں نے ‘لال قلعے سے لالو کھیت’ نامی ڈرامہ تحریر کیا۔

تعلیم بالغان ایک ایسا ڈرامہ ہے جو دو روز میں ہی پلاٹ کیا گیا تھا کیونکہ بابائے اردو نے کہا تھا کہ مجھے ایک روز بعد ڈرامہ کرانا ہے۔ اور وہ ایسا کامیاب ہوا کہ اسکے ہزاروں شو نی صرف کراچی میں بلکہ پورے پاکستان میں ہوئے۔ ایک سوال کے جواب میں منور سعید نے کہا کہ معین بھائی کے مکالمے عمومی انداز کے ہوتے تھے لہذا انہیں پیش کرتے ہوئے ہمیں کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں