حق دو کراچی کو (عارف میمن)

روزانہ کی طرح گھر سے آفس کے لیے نکلا اور سندھ اسمبلی کے سامنے سے گزرتا ہوا دفتر پہنچا۔ اسمبلی کے سامنے ایک دھرنا جاری تھا۔ لیکن ٹریفک اپنے معمول کے مطابق چل رہا تھا۔کسی قسم کی دشواری کے بغیر آفس پہنچا جیسے روزانہ پہنچتا تھا۔ تین دن ہوگئے اس دھرنے کو لیکن حیرت کی بات ہے کوئی ٹریفک میں خلل نہیں۔ کوئی ہنگامہ نہیں۔نا ہی اب تک کوئی ایسی بات معلوم نہیں ہوسکی جس سے اندازہ ہوسکے کہ یہ لوگ صرف ذاتی مفادات کی خاطر یہاں موجود ہیں۔ کسی کے پاس نا لاٹھی تھی نا ہی کسی کے پاس کوئی پتھر۔ پڑھی لکھی قیادت دھرنے میں موجود ہے تو دوسری طرف پڑھے لکھے کارکنان صبر کا مجسمہ بنے بیٹھے ہیں۔سوچا جاکر رپورٹ بنانی چاہیے۔ رات کے وقت دفتر سے نکل کر سیدھا دھرنے میں پہنچا جہاں میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی وہ پیشے سے ڈاکٹر ہیں جب ان سے پوچھا کہ بھئی آپ کا یہاں کیا کام ؟ یہاں تو دھرنا چل رہا ہے آپ جائیں اپنے اسپتال اور کلینک کو دیکھیں۔ اس بات پر نوجوان ڈاکٹر نے کہا کہ آج میرا اسپتال بھی یہ ہی ہے اور میرا کلینک بھی ۔ یہ کراچی کے حقوق کی جنگ ہے اور ہم ان سے حقوق لینے آئے ہیں جنہوں نے نا صرف کراچی بلکہ پورے ملک کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ ہم ان سے حقوق کی بات کرنے آئے ہیں جو غاصب ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بلدیاتی قوانینِ میں تبدیلی کی جائے۔ اس نوجوان کو بلدیاتی قانون کی تمام شقیں زبانی یاد تھیں۔ جب ایک کارکن کا یہ حال ہے تو سوچیں قیادت کس درجے پر فائز ہوگی۔
میں یہ سوچ رہا تھا کہ بھلا وہ لوگ اپنے مفادات کو کیوں کر ان کے ہاتھوں گروی رکھ دیں۔ بھلا کیونکر وہ سونے کی چڑیا کراچی کو ان ہاتھوں سونپ دیں جن کے ہاتھوں میں سارے پتے موجود ہیں۔ یہ لوگ واقعی میں عظیم لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اپنے کل کو بہتر بنانے اور آنے والی نسل کے گلے سے غلامی کا طوق اتارنے آئے ہیں۔مجھے اس نوجوان کا آخری جملہ بہت اچھا لگا اس نوجوان ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ میں سب کچھ چھوڑ کر یہاں ان کا ساتھ دینے آیا ہوں تو مجھے بھی اس بات کی فکر ہے کہ اگر آج میں نے تھوڑی سی تکلیف سہہ لی تو میرا اور میرے بچوں کا کل بہتر ہوسکے گا ورنہ وہ بھی غلامی کی زندگی بسر کریں گے۔ اور ان کے سر پر بھی ایک جیالا استاد مسلط ہوگا جیسے نا قومی ترانہ آتا ہوگا اور نہ ہی ٹیچر کی اسپیلنگ آتی ہوگی اور یہ وہ جیالے ٹیچرز ہوں گے جو ملک کی قسمت کے ساتھ کھل کر کھیل کھیلیں گے۔

اسی دوران ایک اور نوجوان سے ملاقات ہوگئی وہ این ای ڈی یونیورسٹی کا اسٹوڈنٹ تھا۔ جب میں نے اس سے سوال کیا کہ بھئی آپ یہاں کیوں آئے ہیں تو ان کا جواب بھی پہلے والے سے مختلف نہ تھا۔ اس نوجوان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی قوانینِ میں تبدیلی ناگزیر ہے کیوں کہ بلدیات کا سیدھا رابط عوام سے ہے اور اگر یہاں آپ کوئی ایسا قانون لاگو کردیں جس سے عوام کے حقوق غصب ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر مجھ پر اور آپ پر لازم ہے کہ ہم ایسے قوانین کو یکسر مسترد کردیں تاکہ کوئی بھی اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوسکے کہ وہ کراچی کے حقوق پر عیاشی کرسکتا ہے۔ میں یہاں اکیلا نہیں میرے ساتھ میرے دوست بھی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی کے ساتھ جو انصافیاں
ماضی میں ہوتی رہی ہیں اب اس کا سلسلہ بند ہونا چائیے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہاں میرٹ پر نوکری نہیں ملتی۔ یہاں کا نوجوان پڑھ لکھ کر رائیڈر بنتا ہے۔ یہاں کا نوجوان مایوسی کا شکار ہوکر غلط کاموں کی طرف راغب ہو رہا ہے۔ یہاں کا نوجوان بے روزگاری سے تنگ ہوکر شارٹ راستے پر چلنے لگا ہے۔ اور یہاں کا نوجوان ان تمام حالات سے تنگ آکر نشے جیسی لت میں مبتلا ہو رہا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے کل کو بہتر بنانے کے لیے اپنا آج قربان کریں۔
ان کی باتوں سے مجھے احساس ہوا کہ واقعی یہ حقیقت ہے کیوں کہ کچھ ایسے سرکاری ملازم میں نے بھی دیکھیں ہیں جو نامور جیالے کہلاتے ہیں۔وہ ٹیچر کم کارکن زیادہ ہیں۔ ایک بھائی سترہ گریٹ تو دوسرا بھائی دوسرے شہر میں بارہ گریٹ میں مفت کی تنخواہیں وصول کررہے ہیں جبکہ انہیں آج دن تک نوکری پر نہیں دیکھا گیا۔ جب بھی دیکھا تو سیاسی جلسوں میں دیکھا۔ یہ لوگ اپنے اثر رسوخ کا استعمال کرکے نوکریاں حاصل کرتے ہیں۔ ان کے پاس مقامی ڈومیسائل بھی ہیں اور شناختی کارڈ بھی۔ یہ لوگ میرٹ کا قتل عام کرکے انصاف کی بات بھی کرتے ہیں۔ گٹر کے ڈھکن لگوانے ہوں یا سیوریج کا مسئلہ حل کرانا ہو ۔جب تک ان کی خوشامد نہیں کی جاتی سرکار اس مسئلے کو حل نہیں کرتی۔ اور جب یہ کوئی جائز مسئلہ حل کردیتے ہیں تو پھر وہ ان کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور جو غلام نہیں بنتے یہ لوگ دوبارہ ان کا کوئی بھی کام نہیں ہونے دیتے۔
میں رات کے وقت اس دھرنے کو کور کرنے گیا تھا اور اس دوران میری تقریباً بیس پچیس نوجوانوں سے ملاقات ہوئی اور اتفاق کی بات کوئی بھی گریجویٹ سے کم نہیں تھا۔ ہر نوجوان پڑھا لکھا ملا۔کوئی کراچی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ملا تو کوئی اقرار یونیورسٹی میں زیر تعلیم ملا۔ اس پڑھی لکھی قیادت سے بات دلیل سے کی جاسکتی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے سندھ سرکار کے وزراء اتنے تعلیم یافتہ ہوں گے کہ وہ ان نوجوانوں سے بات کرسکیں۔ یہ پڑھی لکھے لوگ ہیں جو نقل کرکے یا جعلی ڈگریاں لے کر نہیں آئے۔ ان کے سامنے وہ ہی بندہ بات کرسکتا ہے جو ان کے معیار کا ہو ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سائیں سرکار ان سے بات کرنے سے کترا رہی ہے اور وہ یقیناً ہمیشہ کی طرح اختیارات کا ناجائز فایدہ اٹھاتے ہوئے طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔ تاہم یہ طاقت کا مظاہرہ سائیں سرکار کے تابوت میں آخری کیل بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
میں نے کئی مظاہرے دیکھے کئی دھرنے کور کیے۔ لیکن جماعت اسلامی کے مظاہرے اور دھرنے ہمیشہ پرامن رہے۔ یہاں پڑھے لکھے نوجوان قلم کا استعمال کرنا جانتے ہیں۔ یہاں کھانے پینے کا بھی انتہائی سادہ سا نظام ہے۔ زیادہ تر افراد گھر سے ہی کھانے منگوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور میرے لیے یہ بھی ایک حیرت کا مقام تھا کہ اسی وقت ایک فیملی اپنے مردوں کےلیے گھر سے کھانا اور چائے لے کر آئی تھی۔ اس نوجوان سے جب بات کی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک کارکن اور ایک نجی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے اور اس کی فیملی اورنگی سے ان کے لیے کھانا لے کر آئی ہے۔ میں نے آج تک ایسے دھرنے نہیں دیکھے جہاں فیملی گھر سے کھانا بناکر لاتی ہو۔ اکثر دھرنوں میں لوگ اس لیے بھی جاتے ہیں کہ وہاں کھانے پینے کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے جتنے دن دھرنا جاری رہتا ہے لوگوں کی موجے ہوتیں ہیں۔ لیکن یہاں سب الٹ تھا۔ یہاں کوئی موج میں نہیں ملا۔ یہاں ہر کوئی ایک مقصد لے کر آیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ اپنا مقصد حاصل کیے بغیر یہاں سے جانے والے نہیں۔
آج سمجھ میں آیا کہ سائیں سرکار آخر تعلیم دشمن کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے اگر یہ لوگ پڑھ لکھ گئے تو ان کی غلامی کون کرے گا۔ انہیں اگر شعور آگیا تو انہیں جھک کر سلام کون کرے گا ۔ یہ پڑھ لکھ کر کسی عہدے پر پہنچ گئے تو پھر ان کی جی حضوری کرنے والا کون ہوگا۔ یہ ہی وہ وجہ ہے جس کے باعث آج سندھ تعلیم کے معاملے میں ایتھوپیا جیسے ملک سے بھی پیچھے ہے۔ یہاں سائیں سرکار کی چھتر چھایا میں الحمدللہ ایسے اسکول بھی پلتے ہیں جن کا روئے زمین پر نام ونشان تک نہیں۔ صرف کاغذوں میں اسکول موجود ہیں جن کا سالانہ بجٹ بھی نکلتا ہے تو اسی اسکول کے ٹیچرز اور اسٹاف کی تنخواہیں بھی باقاعدگی سے جاری ہوتی ہیں۔ بھٹائی اور لعل کی زمین پر جہاں گھوسٹ اسکول اور گھوسٹ اساتذہ پائے جاتے ہیں وہیں تعلیم کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے وزراء کی بھی کوئی کمی نہیں۔ اس سندھ دھرتی کا ہمیشہ سے سیاسی طور پر ٹرپ کے پتے کے طور پراستعمال کیا گیا۔ سندھ دھرتی کے سیکرٹری ایجوکیشن کو یہ بھی معلوم نہیں کہ سندھ میں پرائمری اور سیکنڈری اسکول کتنے ہیں۔ انہیں صرف ایک بات سے غرض ہے کہ کمانا کہاں کہاں سے ہے۔اور کن کن طریقوں سے کرپشن کی جاسکتی ہے۔
اس دھرنے کو دیکھ کر گزشتہ روز وی ایس وی اسکول کاغذی بازار یاد آگیا۔ اس اسکول کی حالت ایسی تھی کہ یہاں کوئی اپنے جانور بھی نا باندھے۔ لیکن اس اسکول میں پرائمری کے بچوں کو تعلیم دی جا رہی تھی۔ خستہ حال عمارت۔جس میں ٹوٹا پھوٹا فرنیچر بیٹھنے کے قابل تک نہیں تھا۔ جہاں بلیک بورڈ برائے نام تھا وہاں کی پرنسپل خود بچوں کو پڑھا رہی ہیں ۔ جب میں نے ان سے سوال کیا کہ اس اسکول کی حالت اتنی خراب ہے تو آپ سرکار کو کیوں نہیں کہتیں کہ وہ یہاں سہولیات فراہم کرے۔ جس پر پرنسپل نے جواب دیا کہ اتنے لیٹر لکھے ہیں کہ اب تو وہ ردی کے بھائو بک بھی گئے ہوں گے۔ سرکار کہتی ہے کہ ایڈمیشن لائو۔ لیکن آپ کی طرح جو بھی ایک مرتبہ اس اسکول کو دیکھتا ہے دوبارہ اس کی شکل دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ ڈیکس یہاں نہیں۔ بلیک بورڈ یہاں ٹوٹا پھوٹا ہے۔ عمارت میں جگہ جگہ پلاسٹر اکھڑ رہا ہے جو کبھی بھی کسی حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ جس اسکول میں بچوں اور لیڈی ٹیچرز کے لیے واش روم تک میسر نہ ہو بھلا وہاں کون آنا پسند کرے گا؟ صفائی اپنے پیسوں سے کراتے ہیں۔ اسٹیشنری اپنے پیسوں سے لانی پڑتی ہے۔ پینے کا پانی اپنے پیسوں سے منگوانا پڑتا ہے ۔ بچوں کو رفع حاجت کے لیے بھی گھر جانا پڑتا ہے۔ بھلا ایسے میں کون اپنے بچے یہاں پڑھنے کے لیے بھیجیے گا؟ جب ان سے سوال کیا کہ آپ نے سیکرٹری ایجوکیشن کو بھی لیٹر لکھا ہے تو پرنسپل صاحبہ نے مسکرا کر کئی ریسونگ مجھے دکھائیں اور کہا کہ ہر سال ڈھیروں لیٹر لکھ رہی ہوں۔ مگر کسی ایک کا بھی اب تک جواب نہیں ملا۔
یہ صرف ایک اسکول نہیں بلکہ سینکڑوں اسکول کراچی میں ایسے ہیں جہاں عمارت کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں۔ کئی اسکول گود لے لیے گئے ہیں۔ لیکن سائیں سرکار کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ۔ کیوں کہ ان کا کام چل رہا ہے۔ ان کا میٹر آن ہے۔ان کے جیالے ان کی آمدنی میں دن رات اضافہ کررہے ہیں۔ پھر وہ کیوں اس طرف دیکھے۔ ؟
لیکن ایک کہاوت ہم نے بھی سن رکھی ہے کہ بکرے کی اماں کب تک خیر منائے گی۔ یہ دھرنا درحقیقت سائیں سرکار کے لیے عبرت کا نشان بننے جا رہا ہے۔ کیونکہ اس دھرنے میں کوئی سرکاری ملازم نہیں اور نہ ہی کوئی ہاتھ جوڑ کر جی حضوری کرنے والا جیالا موجود ہے جسے وہ خرید سکیں۔ یہاں ہر نوجوان بزرگ بچہ ایک مقصد کے لیے موجود ہیں جنہیں اپنے مقصد سے ہٹانا سائیں سرکار کے بس کی بات نہیں۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں