کراچی کا مقدمہ (محمد عارف میمن)

کمرا عدالت میں ہر طرف چہ مگوئیاںچل رہی تھیں، کوئی کہہ رہا تھا آج کوئی اچھا فیصلہ ضرور آئے گا۔کسی نے کہا کچھ نہیں ہونے والا۔ درخواست گزار بھی کمرے عدالت میں بے چین نظرآرہاتھا،بار بار وکیل کی طرف دیکھتا اور اپنی بے چینی کا اظہار کرتا، معلوم نہیں کیوں میری بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ آپ اطمینان رکھیں ایسا کچھ نہیں ہوگا، یقینا کیس کا فیصلہ آپ کے حق میں آئے گا، وکیل کے جواب پر اس بزرگ کے چہرے پر کچھ اطمینان کے آثار نظرآئے۔ تھوڑی دیر بعد جج صاحبان کی کمرے میں آمد ہوئی تو تمام لوگ احتراما کھڑے ہوگئے۔
جج صاحبان کے بیٹھنے پر تمام حاظرین بھی اپنی اپنی نشست پر تشریف فرما ہوگئے۔ کمرا عدالت میں گہرا سکوت تھا، جیسے اس کمرے میں کوئی ذی روح سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ گھڑی کی ٹک ٹک بھی اس دوران باآسانی سنی جاسکتی تھی۔ سب کی نگاہیں جج صاحبان کی طرف تھیں کہ کب وہ فیصلہ سناتے ۔ کچھ دیر اسی عالم میں گزرے کے جج صاحب نے حاضرین کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا اور وکیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ محفوظ فیصلہ سنانے سے قبل اگر آپ نے مزید کوئی دلائل دینے ہوں تو اجازت ہے۔ جس پر وکیلوں نے انکار میں جواب دیا۔
جج صاحبفیصلہ سناناشروع کیا۔ جیسا کہ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اسے شہری حقوق نہیں مل رہے اوراس کی وجہ سے وہ اذیت کا شکار ہیں، جس پرشہری نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں انصاف فراہم کرتے ہوئے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ عدالت کا کام انصاف کے تقاضوں کو پورا کرکے درخواست گزارکو انصاف فراہم کرنا ہے ،درخواست گزار نے اپنے موقف میںکہا کہ ان کے پاس گیس پائپ تو ہیں مگر اس میں گیس نہیں، پانی کے کنکشن موجود ہیں اور باقاعدہ بل بھی بھر رہے ہیں مگر ان نلکوں سے انہیں پانی میسر نہیں، بجلی کی تاریں ہیں مگر ان میں بجلی نہیں،لوڈشیڈنگ، اووربلنگ اور ناجائز فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ٹیکس سمیت بل بھی باقاعدگی سے بھرنا پڑ رہا ہے، اسکول کے نام پر عمارت تو موجود ہے مگر وہا تعلیم میسر نہیں،علاقے میں ڈسپنریاں ، اسپتال موجود مگر وہاں صحت نہیں ملتی، صفائی ستھرائی کا عملہ موجود ہے جن کی ماہانہ تنخواہیں بھی سرکار جاری کرتی ہے ،لیکن اس کے باوجود ہمیں گندگی کے ڈھیر پر زندگی بسرکررہے ہیں،سیوریج کا نظام ہے لیکن سیوریج کا پانی لائنوں کے بجائے گلی محلوں میں زیادہ نظرآتا ہے،دفترآتے جاتے ہوئے بدترین ٹریفک جام میں گھنٹوں گزارنے پڑتے ہیں، کہیں گاڑی پارک کریں توجگہ جگہ پارکنگ مافیاہم نے زندگی اجیرن کررکھی ہے ، پینے کا پانی ہمارا بنیادی حق ہے مگر یہ حق ہمیں واٹر ٹینکرمافیا کو بھاری معاوضہ ادا کرکے حاصل ہوتا ہے ،تمام تر انکوائریوں کے بعد خریدے گئے پلاٹ پر کسی اور کا قبضہ نکلتا ہے اور اس کے لیے پھر کئی سالوں تک نا ختم ہونے والے کیسز کا سامنا ،قبضہ مافیااتنی مضبوط ہے کہ وہ کیس کو ختم ہی نہیں ہونے دیتے ، کھیلوں کےلیے مختص میدانوں پر ہاﺅسنگ اسکیم اور ایس ٹی بن چکی ہیںاور جو بچ گئے ہیں وہاں غیرقانونی بچت بازارمافیا کا قبضہ ہے ، پارکس کی زمینوں پر عمارتیں کھڑی ہیں، رفاعی پلاٹ رہائش میں تبدیل ہوچکے ہیں۔
جج صاحب نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی اور پھر کہنا شروع کیا۔ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں مزید لکھا ہے کہ وہ تمام سرکاری ٹیکس ادا کرنے کے باوجود بنیادی حقوق سے محرومہے،ٹیکس کی ادائیگیوں کے باوجود مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، شہر کا انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ، تفریح مقامات پر بھی مافیا سرگرم ہیں، زندگی کی تمام تر رونقیں ان مسائل کی نذر ہوچکی ہیں، لہذا انہیں ان مسائل سے چھٹکارا دلایا جائے اور تمام بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں،درخواست پر عدالت نے تمام فریقین کو نوٹسز بھیجے اور ان کے جواب بھی آئے ، ان کے وکیلوں کی طرف سے دلائل بھی دیے گئے۔
جج صاحب نے ایک نظر وکلاءپر ڈالی اور کہنا جاری رکھا۔سماعت کے دوران کبھی وکیل غیر حاضر تو کبھی فریقین کی طرف سے ٹال مٹول کا سلسلہ بھی چلتا رہاہے ،اس طرح ایک بنیادی حقوق سے محروم شخض کو انصاف کے لیے جہاں پانچ سال سے زائد کا عرصہ مزید اذیت اور کرب مےں گزارنا پڑا وہیں کیس پرآنے والے اخراجات بھی برداشت کرنے پڑیں۔ عدالت کا کام انصاف فراہم کرنا ہے ، عدالت فیصلہ سنا دیتی ہے ، مگر بہت کم ایسا ہوا کہ عدالتی فیصلے پر علمدرآمد ہوا ہو۔ ورنہ ہر فیصلہ ردی کی ٹوکری کی قسمت بن جاتا ہے ۔لیکن اب ایسا نہیں ہوگا، عدالت ہر فیصلے پر خود عملدرآمد کرائے گی اور روزانہ کی بنیاد پراداروں سے رپورٹس بھی لیتی رہے گی۔ اس فیصلے کو ردی کی ٹوکری کی زینت نہیں بننے دیں گے۔
جج صاحب نے اپنے اردگرد جج صاحبان کی طرف دیکھا اور کہا، اس کیس میں جس جس ادارے کو نوٹس بھجوائے گئے ان تمام اداروں کے سربراہان کو تاحیات سرکاری نوکری کے لیے نااہل کیاجاتا ہے ، کراچی کے تمام ڈپٹی کمشنرز ،اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی فوری عہدہ چھوڑنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہ کرنے پر پانچ ، پانچ سال قید اور پانچ ، پانچ کروڑ روپے جرمانے کی سزاسنائی جاتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایڈمنسٹریٹر کراچی ، کمشنر کراچی کو بھی فوری طورپر عہدے ہٹانے اور شہر کا انفراسٹر کچر تباہ کرنے کے جرم میں 8-8سال قید اور 10-10کروڑ روپے جرمانے کی سزادی جاتی ہے ، اس کے ساتھ ان تمام محکموں کے وزراءکو شہریوں کے حقوق کی حفاظت نہ کرنے، اپنے عہدے کا پاس نہ رکھنے، جھوٹے وعدے اور دلاسے دینے اور اسمبلیوںسے محض مراعات لینے پرتاحیات نااہل اور25-25سال قید بامشقت اور 50-50کروڑ روپے جرمانہ عائد کیاجاتا ہے ، جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید 25-25سال کی قید بھگتنا ہوگی۔
اتنا کہہ کر جج صاحب ایک مرتبہ پھر رکے ، اور کچھ توقف کے بعد پھر کہنا شروع کیا۔وزیراعلیٰ پر ناصرف کراچی بلکہ صوبے کی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے ، لیکن وزیراعلیٰ اپنے عہدے کا مان نہ رکھ سکے ، محض سرکاری پروٹوکول کاپارٹی اجلاسوں کے لیے بے جا استعمال کیاگیا، شہر میں کیا ہورہاہے وہ اس سے بے خبر رہے ،شہری تمام تر بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور وزیراعلیٰ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر پرتعیش زندگی گزارتے رہے، اس لیے انہیں فوری گرفتار کرکے سرے عام 100کوڑے مارنے کے ساتھ ساتھ 50سال کی سزا اور 500کروڑ روپے جرمانہ عائد کیاجاتا ہے جرمانے کی رقم ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو قبضے مےں لے کر ادا کی جائے اور اس تمام رقم کو شہریوں کے بنیادی کاموں پر لگائی جائے ۔ ساتھ ہی درخواست گزار کوجو اتنی مصیبت او مصائب کا سامنا کرنا پڑا ، اس کے لیے حکومت انہیں 10کروڑ روپے فوری ادا کرے ۔
اتنا کہہ کر جج صاحب چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئے اور پانی کا گلاس اٹھایا۔ ۔اٹھ جاﺅ۔ بچوں کو اسکول کے لیے دیر ہورہی ہے ، کب تک سوتے رہوگے۔ جلدی اٹھو۔ بچوں کو اسکول بھی جانا ہے ۔ بیگم کی چلاتی آواز نے ہمیں جھنجوڑ کر رکھ دیا اور ہم فورا آنکھیں ملتے ہوئے اپنے آس پاس نگاہیں دوڑانے لگے۔ نہ کوئی عدالت کا کمرا تھا، نہ کوئی جج نظرآیا۔ بس جو نظر آیا وہ یہ منظر تھا کہ سامنے بچے اسکول یونیفار م میں تیار کھڑے تھے ، اور بچوں کی اماں ان کا لنچ بیگ میں ڈال رہی تھیں۔ ہم اپنے خواب اور جج کے مزید فیصلے کو وہیں چھوڑ کر بچوں کو اسکول چھوڑنے چلے گئے ۔ لیکن راستے بھر صرف ایک سوچ ذہن میں تھی کہ کراچی کی قسمت بھی کبھی بلے گی؟کیا کبھی ایسا ممکن ہو پائے گاکہ ہم بھی ایک خوبصورت زندگی گزار سکیں، جہاں نہ پانی ، بجلی ، گیس ،گندگی ،ٹریفک جام کا کوئی مسئلہ نہ ہو، میدان اور پارکس آباد ہوں ، جہاں بچے ،بزرگ جوان سب صحت مندہوں ۔ سرکاری اسکولوں کی خالی عمارتوں میں تعلیم میسر ہو، نلکوں میں پینے کا صاف پانی آتا ہو، کوئی واٹر ٹینکر ہو اور نہ ہی سیوریج کا پانی گلی محلے میں ہمارا استقبال کرتا ہو۔
کا ش یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہوجائے اور کراچی دنیا کا خوبصورت ترین شہر بن جائے ۔ لیکن ہر خواب کی جس طرح تعبیر ممکن نہیںاسی طرح ہمارے خواب کی تعبیر بھی ممکن نہیں۔ تمام ادارے اور حکومت خوش رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں