جنون (محمد عارف میمن )

حصہ اول 
شیری تمہیں معلوم ہے یہ دنیا ہم سے کیا چاہتی ہے ، تبسم نے شہریار کا ہاتھ تھام کر سوال کیا۔
مجھے کیا معلوم کہ دنیا ہم سے کیا چاہتی ہے ، میں تو بس یہ جانتا ہوں کہ میں دنیا سے کیا چاہتا ہوں ، اور تمہیں معلوم ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ جلد از جلد آرمی جوائن کروں اور تمہیں اپنے گھر لے آﺅں۔ شیری نے تبسم کی افسانوی باتوں کا جواب چند جملوں میں ہی دیتے ہوئے کہا۔
شیری پلیز، یہ بار بار آرمی کی باتیں مجھ سے مت کرو۔ تمہیں معلوم ہے کہ مجھے آرمی کی جاب پسند نہیں ، اور میں کبھی نہیں چاہوں گی کہ تم آرمی جوائن کرو۔ تبسم نے اپنا ہاتھ شہریار کے ہاتھ سے چھڑا تے ہوئے اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا۔
ارے یار! تمہیں آرمی سے کیا پریشانی ہے ، میں تم سے کئی بار اس معاملے پر پوچھ چکا ہوں ، مگر تم ہو کہ جواب تک نہیں دیتی، بس ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے کہ آرمی جوائن نہیں کرنی ، آرمی جوائن نہیں کرنی۔ آج تم مجھے بتا ہی دو کہ تمہیں آرمی سے کیا مسئلہ ہے؟ شہریار نے دوبارہ تبسم کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اس کا چہرہ اپنی جانب کرکے پوچھا۔
شیری ۔ تمہیں معلوم ہے نا کہ میں اس بارے میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتی ، بس یوں سمجھ لو کہ مجھے آرمی پسند نہیں ، اور اگر تم اپنی ضد پر قائم رہے تو یقین رکھوں میں اپنے ساتھ کچھ کرلوں گی۔ تبسم نے اپنی نم آنکھوں سے شیری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
نہیں تبسم ۔ ایسے نہیں ۔ مجھے ٹھوس وجہ بتانی ہوگی۔ کیوں کہ آرمی جوائن کرنا میرا خواب ہے ، اور جب انسان کا خواب ادھورا رہ جائے تو معلوم ہے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔وہ زندہ لاش بن جاتا ہے ، کیا تم مجھے ساری زندگی تکلیف میں دیکھنا پسند کرو گی؟؟ شہریار نے تبسم کی آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے کہا۔
شیری پلیزیار! مجھے خود نہیں معلوم کہ مجھے آرمی کیوں پسند نہیں ، بس اتنا جانتی ہوں کہ آرمی میں جو جاتا ہے ، وہ واپس نہیں آتا۔ اور۔۔۔ اور ۔۔مجھے بس خوف آتا ہے ، مجھے شہناز کی تکلیف آج تک نہیں دیکھی جاتی، وہ بچاری نئی نویلی دلہن صرف ایک مہینے میں بیوہ ہوگئی۔ ۔۔آخر اس کا کیا قصور تھا؟۔ اس نے بھی اپنے شوہر کو بہت منع کیا تھا کہ مت جاﺅ۔۔ مت جاﺅ۔۔ مگر پھر بھی وہ اسے چھوڑ کر چلاگیا اور آج تک واپس نہیں آیا۔۔بس مجھے خوف آتا ہے جب تم آرمی کی بات کرتے ہو۔ ۔میں تمہارے بغیر کیسے زندگی گزار سکتی ہوں؟ کیسے جی پاﺅں گی میں تمہارے بغیر؟۔ میں دوسری شہناز نہیں بننا چاہتی۔ اوراب خدا کے لیے مجھ سے دوبارہ آرمی کا تذکرہ مت کرنا۔۔ شہناز نے شہریار کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑاتے ہوئے اپنے چہرے پر رکھ دیے اور رونا شروع کردیا۔۔
پلیز یار! اس طرح یہاں پارک میں روﺅ تو مت۔ کوئی دیکھ لے گا تو یہ ہی سمجھے گا کہ ایک ہٹا کٹا جوان لڑکی کے ساتھ زبردستی کررہا ہے ، اور پھر لوگوں کا تو تمہیں معلوم ہی ہے ، ہر کوئی جلدی بہن بنالیتا ہے ، شہریار نے تبسم کا ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہااور خوب زور زور سے ہنسنے لگا۔
بس میں نے کہہ دیا۔ اب مجھ سے آرمی کا ذکر مت کرنا ۔ ورنہ میں ابھی اسی وقت یہاں سے چلی جاﺅں گی۔ تبسم نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا،جب کہ شہریارمسکراتا ہوا تبسم کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔
شام کے سائے اب گہرے ہوتے جارہے تھے، آسمان پر کہیں کہیں ستاروں کی موجودگی بھی اس بات کا واضح ثبوت دے رہے تھے کہ چند منٹوں میں رات کی تاریکی اس نیلے آسمان کو اپنی آغوش میں لینے والی ہے۔ شہریار نے تبسم کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر اپنی گاڑی کی جانب چل دیا۔۔
گاڑی میں بھی تبسم خاموش بیٹھی رہی اور کوئی بات نہیں کی، جب کہ شہریار اس کا ذہن بٹانے کی ہر ممکن کوشش کر چکا تھا۔۔
شہریار اورتبسم کا نکاح ابھی چند ماہ پہلے ہی ہوا تھا، دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے ، اور دونوں کے گھر والوں کو اس رشتے پر بھی کوئی اعتراض نہےں تھا، لہذا یہ شہریار کے والد جو منگنی کے خلاف تھے انہوںنے نکاح کی بات کی جو تبسم کے والد نے فورا مان لی۔ جب کہ شادی کے لیے کچھ وقت مانگا گیا تھا تاکہ شہریار اپنی پڑھائی مکمل کرکے آرمی جوائن کرسکے۔ لیکن شروع سے ہی ان دونوں کے درمیان آرمی کو لے کر بحث ہوتی رہتی تھی ، پہلے تو تبسم کو اتنا اعتراض نہیں تھا، لیکن جب شہناز کے شوہر کی شہادت کاعلم ہوا تواس خبر نے تبسم کے دل ودماغ پر گھیرا اثرچھوڑا اور اس دن سے تبسم آرمی کے خلاف ہوگئی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان آئے روز اس بات پر کافی بحث ہوتی رہتی تھی۔
۔۔۔۔
تبسم کو گھرچھوڑ کر شہریار اپنے گھر آچکا تھا، اور اب سب رات کے کھانے پر بیٹھے ہوئے تھے۔
پاپا! مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ شہریار نے لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے اپنے والد پروفیسرعبدالرشیدسے مخاطب ہوتے ہوئے کہا
ہاں بیٹا کہوں ۔ کیا بات ہے۔ عبدالرشید نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
پاپا ! تبسم چاہتی ہے کہ میں آرمی جوائن نہ کروں بلکہ کوئی اور کام یا کاروبار کرلوں۔ آپ اس بارے میں کیاکہتے ہیں؟ شہریار نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے اپنے والد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
بیٹا! یہ تمہارا نجی معاملہ ہے ، اگر تمہیں بہتر لگتا ہے کہ تمہیں آرمی جوائن نہیں کرنی تو نہ کرو، اور کاروبار کرلو۔ ویسے بھی تمہاری ماں بھی یہ ہی چاہتی ہے کہ تم آرمی جوائن نہ کرو۔پروفیسر عبدالرشید نے آخری نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا شہریار کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔
پاپا! مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ میرا خواب ہے ، اور ماماکو بھی معلوم ہے کہ میں یہ خواب آج سے نہیں بلکہ بچپن سے دیکھ رہا ہوں ۔ جب بھی ماما یا آپ مجھ سے پوچھتے تھے کہ بڑے ہوکر کیا بنوں گے تو میری زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا تھا کہ میں بڑا ہوکر آرمی افسر بنوں گا۔ اورآج جب مجھے یہ موقع مل رہا ہے تو پھر میں کیسے اپنے خواب کو ادھورا چھوڑ دوں؟ شہریار نے کھانے سے سائیڈ پر ہوتے ہوئے اپنے والد اور والدہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
تو بیٹا اس سلسلے میں بتاﺅ میں تمہاری کیا مدد کرسکتا ہوں۔پروفیسر عبدالرشید جو کہ ایک بڑے سے کالج میں پروفیسر رہ چکے تھے اور اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں نے تولیہ سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا
پاپا! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ خود تبسم سے بات کریں، شاید وہ آپ کی بات مان جائے ، کیوں کہ میں اگر اپنا خواب پورا نہ کرسکا تو یقین کریں پاپا ساری زندگی دل میں خلش رہ جائے گی۔ اور میں نہیں چاہتا کہ میں ایسی کوئی خلش دل میں پالے زندگی گزاروں۔ شہریا ر نے اپنے والد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
بیٹا ! اگرمیری مانو تو واقعی تبسم کی بات مان لو۔ وہ ٹھیک کہہ رہی ہے، میں بھی یہ ہی چاہتی ہوں کہ تم کوئی اپنا کاروبار کرلو۔ ثمرین بیگم جو کافی دیر سے خاموش دونوں باپ بیٹوں کی بات سن رہی تھی نے اپنے بیٹے کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے بڑے پیار سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ماما! آپ کو معلوم ہے کہ میں آپ کی بات نہیں ٹال سکتا، مگر پلیز ! میں آپ سے یہیں کہوں گا کہ یہ میرا خواب ہے ۔ شہریار نے بیچارگی کے عالم میں اپنی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اچھا ایک کام کرتے ہیں۔ عبدالرشید نے اپنے بیٹے کے چہرے پر اداسی دیکھتے ہوئے کچھ سوچ کر کہا
جی پاپا! وہ کیا کام؟ شہریار نے لاچارگی کے عالم میں اپنے والد کی طرف غور سے دیکھ کر کہا
تمہارا خواب آرمی میں جانے کا ہے ، اور تمہاری ماں اور تبسم یہ چاہتی ہیں کہ اپنا کاروبار کرلو۔۔ پروفیسر عبدالرشید نے ایک نظر بیٹے اور بیگم کی طرف ڈالی اور چند لمحے توقف کے بعد پھر کہا!۔۔۔تم کچھ عرصے کے لےے آرمی میں چلے جاﺅ، پھر چھوڑ دینا اوراپنا کاروبار کرلینا، اس طرح تمہارا خواب بھی پورا ہوجائے گا، اور تمہاری ماں اور تبسم کا دل بھی نہیں ٹوٹے گا۔ کیوں کہ میں یہ جانتا ہوں کہ جس کام میں ماں کی رضامندی نہ ہو وہ نہیں کرنا چاہیے۔کیا کہتے ہو ؟؟۔عبدالرشید نے شہریار اور اپنی بیگم کی طرف مسکراکر کہا۔
پروفیسر عبدالرشید اپنے بیٹے او ر بیگم کی نفسیات سے باخوبی واقف تھے اور وہ جانتے تھے کہ اگر بیچ کا کوئی راستہ نہ نکالا تو تینوں کی زندگیاں سولی پر ہی لٹکتی رہیں گی۔ اس لیے انہوںنے یہ تجویز پیش کی۔
ہاں!! مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ تم چاہوں تو کچھ عرصے کے لیے آرمی جوائن کرلو۔ ٹریننگ مکمل کرکے پھر چھوڑ دینا۔ ثمرین بیگم نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھ کر خوشی سے کہا۔
ماما! !! یہ آرمی ہے ، کوئی پرائیوٹ جاب نہیں کہ ٹریننگ کے بعد میں اسے چھوڑ دوں۔ لیکن خیر پاپا کی تجویز بھی اچھی ہے ، کم از کم میں اس طرح اپنا خواب کچھ وقت کے لیے تو پورا کر سکوں گا۔ پھر اس کے بعد دیکھیں گے کون سا کاروبار کرنا ہے۔ شہریار نے مرجھائے ہوئے چہرے سے اپنی والدہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
شہریار جانتا تھا کہ ایک بار آرمی جوائن کرنے کے بعد چھوڑا نہیں جاسکتا۔ لیکن وہ اپنے والد کی تجویز پر حیرا ن تھا کہ انہوںنے کس طرح یہ بات کہہ دی۔
اتنے میں ثمرین بیگم نے کھانے کے برتن اٹھائے اور کچن کی طرف چلی گئیں، جب کہ شہریار بھی اٹھنے لگا تو پروفیسر عبدالرشید نے اسے روک لیا۔
بیٹا !! بات سنو!!مجھے معلوم ہے کہ تم یہ سوچ رہے ہوگے کہ آرمی جوائن کرنے کے بعد کیسے چھوڑا جاسکتا ہے۔ تو یہ بات میں جانتا ہوں۔۔ مگر اس وقت یہ ہی حل ہے ، ورنہ تم کبھی اپنا خواب پورا نہیں کرسکتے، تبسم نے تم سے پہلے ہی مجھ سے اس بات کا تذکر ہ کیا تھا کہ میں تمہیں آرمی جوائن کرنے سے باز رکھوں۔ تاہم میں جانتا ہوں کہ یہ میرے بیٹے کا خواب ہے ، اور اگر میں نے اسے اس کے خواب کو ادھورا چھوڑنے کی بات کی تو یہ ساری زندگی افسردگی کے عالم میں گزار دے گا۔ فی الحال تم اپنی تمام تر تیاریاں جاری رکھوں ۔۔تبسم سے کو بھی میں اس بات پر راضی کرلوں گا۔پروفیسر عبدالرشید نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے شہریار کی طرف دیکھا۔
پاپا !!!۔۔ آپ بہت گریٹ ہیں۔ واقعی آپ کا کوئی ثانی نہیں۔ مجھے آپ کی یہ تجویز سوفیصد منظور ہے، آپ کل ہی تبسم سے اس سلسلے میں بات کرلیں،تاکہ یہ مسئلہ حل ہو۔ شہریار نے خوشی سے چہکتے ہوئے اپنے والد کے گلے لگ گیا۔
جانتا ہوں ، میرا جگر کا ٹکرا کیا چاہتا ہے۔ ساری زندگی تمہاری پرورش کی ہے ، کیا ایک باپ اپنے اکلوتے بیٹے کے دل کا حال نہیں جان سکتا۔ یہ ناممکن سی بات ہے۔ تم اپنی تیاری پر توجہ دو۔ میں تبسم سے کل ہی بات کرلوں گا۔پروفیسر عبدالرشید نے شہریار کی کمر تھپتاتے ہوئے کہا
اتنے میں ثمرین بیگم چائے کی ٹرئے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا دونوں باپ بیٹے ایک دوسرے کے بگل گیر ہیں ۔
کیا بات ہے ، دونوں باپ بیٹوں کو ایک دوسرے پر بڑا پیار آرہاہے۔ ثمرین بیگم نے چائے کی ٹرے میز پر رکھتے ہوئے کہا
جی ماما۔ آپ دونوں میرے لیے جنت سے کم نہیں ، اس لیے ہی تو ہر وقت آپ پر پیار آتا رہتا ہے۔ شہریار نے اپنی ماں کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا
میری جنت تو تم ہوں ۔ میں سوہنڑے رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اس نے اتنی فرمابردار اولا د سے نوازا مجھ گہنگار کو۔ ثمرین بیگم کی آنکھوں میں نمی آچکی تھی ۔
ماما!! آپ پلیز روئے مت۔ یہ آپ لوگوں کی پرورش کا نتیجہ ہے ، ورنہ مجھ میں ایسی کوئی بات نہ تھی۔ اگر آپ لوگ مجھے اچھے برے کی تمیز نہ دیتے ، چھوٹے بڑوں کا ادب نہ سکھاتے اور تعلیم نہ دیتے اور اس گھرمیں نہ لاتے تو آج میں بھی آوارہ کہیں گھوم رہا ہوتا۔ لیکن آپ لوگوں نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا، اور اس احسان کا بدلہ میں ساری زندگی نہیں اتار سکتا۔ شہریار نے اپنی ماں کی آنکھوں سے نمی صاف کرتے ہوئے اس کا ماتھا چوم لیا۔
پروفیسرعبدالرشید کی کوئی اولاد نہیں تھی، شہریار کو انہوں نے 6سال کی عمر میں یتیم خانے سے گود لیاتھا، شہریار کے والدین کے انتقال کے بعد اس کی پرورش کرنے والا کوئی نہیں تھاجس پر شہریار کے چچا نے اسے یتیم خانے بھیج دیا تاکہ ان کے خاندان پر کوئی اضافی بوجھ نہ بنے۔پروفیسر عبدالرشید کے دوست نے انہیں بتایا کہ ایک بہت ہی پیارا بچہ یتیم خانے لایا گیا ہے ،اگر آپ چاہیں تو اسے گود لے کر اس کی بہتر پرورش کرسکتے ہیں ، یہ ہی وجہ تھی کہ ثمرین بیگم نے فورا ہی حامی بھرلی ، اس طرح شہریار یتیم خانے سے پروفیسر عبدالرشید کے گھر آگیا۔ اسے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ اگر پروفیسر عبدالرشید نہ ہوتے تو آج نہ جانے اس کی زندگی کس ڈگر پر ہوتی۔ کہاں ہوتا کس کے رحم وکرم پر ہوتا۔اس لیے وہ اٹھتے بیٹھتے ان کے لیے دعاکرتارہتا ہے۔
۔۔۔۔۔
رات پریشانی کے عالم میں گزار کر صبح جب شہریار کی آنکھ کھلی تو گھڑی میں دس بج رہے تھے ، عموما وہ اتنی دیر تک سونے کا عادی نہیں تھا، مگر شاید رات وہ اس پریشانی میں گزاری تھی کہ صبح تبسم سے بات ہونی ہے اس لیے رات دیر تک سوچتا رہا۔
فریش ہونے کے بعد وہ کمرے سے باہر نکلا تو سامنے ثمرین بیگم سبزی کاٹنے میں مصروف تھیں، جبکہ پروفیسر عبدالرشید کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے
اٹھ گیا میرا لعل۔۔ ثمرین بیگم نے شہریار کو دیکھتے ہوئے سبزی سائیڈ پر رکھ دی اور شہریار کو اپنے قریب کرکے اس کے ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے کہا
جی ماما !! شاید رات دیر تک جاگتا رہا اس لیے صبح آنکھ نہیں کھلی۔ شہریار وہیں اپنی ماں کے برابر میں بیٹھ گیا
ناشتہ لادو ں تمہیں؟ ثمرین بیگم نے شہریار کی طرف مسکراتے ہوئے پوچھا
ماما! آپ رہنے دیں میں خود سے کرلیتا ہوں ، آپ اپنا کام جاری رکھیں ، بس میں دو منٹ میں کچن سے لے کرآتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ کچن کی طرف چل دیا
پروفیسر عبدالرشید نے کبھی اپنے گھر ملازم نہیں رکھے، ہر کام وہ خود کرنے کے عادی رہے ہیں ، ثمرین بیگم بھی اپنے کام خود کرنے کی عادی تھیں اس لیے انہوںنے بھی کبھی ایسی کوئی فرمائش نہیں کی ، اور یہ ہی عادت شہریارکی بھی تھی، وہ بھی اپنے کام خود کرتا تھا،یہ ہی وجہ تھی کہ وہ خود سے ناشتہ بنانے چلاگیا
کچھ دیر بعد شہریار ناشتہ اٹھائے اپنی ماں کے برابر میں آکر بیٹھ گیا اور ایک چائے کا کپ اپنی والدہ کے آگے رکھتے ہوئے کہا
ماما! یہ لیں گرماگرم چائے ، آپ کے بیٹے نے بنائی ہے، اورمسکرا کر اپنی والدہ کی طرف دیکھنے لگا
ہمم !!!اس لیے تو کہتی ہوں جلدی شادی کرلو، تاکہ تمہارے کام تمہاری بیوی آکر کرے، تمہیں خود زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ ثمرین بیگم نے سبزی ایک طرف رکھ کر چائے کاکپ اٹھاتے ہوئے کہا
ماما!! میں تو چاہتا ہوں کہ جلدی سے شادی کرلوں تاکہ آپ کو بھی کام نہ کرنا پڑے۔شہریار کی بات سن کر ثمرین بیگم نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا
بیٹا!! ہم کسی کی بیٹی لے کر آئیں گے ، ناکہ نوکرانی، ایسی سوچ مت رکھنا، دعا کرو اللہ مجھے اتنی ہمت دے کہ آخری وقت تک اپنے کام خود کرسکوں
ماما ! آپ ناراض مت ہوں ، میں مذاق کررہا ہوں ، میں جانتا ہوں آ پ کو اپنا کام کرنااچھا لگتا ہے ، ویسے ایک بات پوچھوں؟ شہریار نے آخری توس منہ میں ڈالتے ہوئے کہا
ہاں پوچھوں، ثمرین بیگم نے تجس سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ماما!! آپ میری آرمی سے خفا تو نہیں نا؟
بیٹا!! میں بھلا کیوں تمہاری آرمی کی نوکری سے خفا ہونے لگی۔ بس تمہاری دوری برداشت نہیں ہوگی اس لیے چاہتی ہوں اپنی آنکھوں کے سامنے رکھوں ، لیکن جب تم کہتے ہونا کہ میرا خواب ہے تو پھر مجھے خود پر غصہ آتا ہے کہ میں اپنے شہزادے کے خواب میں دیوار کھڑی کررہی ہوں، میں بالکل بھی ناراض نہیں، اگر تم آرمی میں جانا چاہتے ہو تو شوق سے جاﺅ، مگر ۔۔۔۔
مگر کیا ماما!!ثمرین بیگم کی ادھوری بات پر شہریار نے اپنی والدہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
مگر!! یہ کہ ہفتے ہفتے میں ضرور چکر لگالیا کرنا، اور فون تو روزانہ کرنا، ورنہ میرا دل کسی شے میں نہیں لگے گا۔ ثمرین بیگم نے اپنی آنکھوں آئی نمی کو شہریار سے چھپاتے ہوئے کہا
ماما!! کیسی باتیں کررہی ہیں، میں بھلا کوئی ہمیشہ کے لیے نہیں جاﺅں گا، بلکہ روزانہ فون کروں گا اور ہر ہفتے گھر بھی آیا کروں گا۔ پکا وعدہ ۔ شہریار نے والدہ کا ہاتھ پکڑ کر چومتے ہوئے کہا
ماما،پاپا نظر نہیں آرہے ہیں ، ناشتے کے برتن اٹھاکر کچن میں جاتے ہوئے شہریار نے پوچھا
وہ کسی کام سے گئے ہیں ، کہہ رہے تھے دوپہر کو کھانے تک آجائیں گے۔ ثمرین بیگم نے بھی کاٹی ہوئی سبزی اٹھائی اور کچن کی طر ف بڑھ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔
ٹی وی لاﺅنج میں میگزین پڑھنے میں مصروف شہریار اچانک موبائل کی رنگ پر چونک پڑا۔ اسکرین پر معیز صمد کا نمبر نظرآرہا تھا
السلام علیکم ،معیز کیا حال ہیں،شہریار نے موبائل کان سے لگاتے ہوئے کہا
سرکار کہاں غائب ہیں، کہیں یہ سوچ کر آستانہ تو نہیں کھول لیا کہ چلو دو پیسے ہی آجائیں اور موبائل میں بیلنس ڈلوا لیں۔ دوسری طرف سے معیز صمدسلام کا جواب دینے کے بعد شہریارکا مذاق اڑاتے ہوئے کہا
آستانہ تو نہیں کھولا ۔ ۔ البتہ آرتھوپیڈک کلینک کھولنے کا ارادہ ہے تاکہ پہلے تمہاری ہڈیاں توڑی جائیں اور بعد میں ان پر پلاسٹر چڑھایا جائے۔ شہریار نے آگے سے جواب دیتے ہوئے کہا
معیز صمد جواب سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ اچھا تو موصوف مارشل آرٹس کی پریکٹس بھرپور انداز میں کررہے ہیں۔
ہاں !! کیوں نہیں۔ جہاں تم جیسے دوست ہوں ، وہاں مجھے دشمنوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ شہریار نے مسکراکرکہا
اچھا سن میں نے اس لیے فون کیا تھا کہ ٹیسٹ کلیئر ہوچکے ہیں ، اور آئندہ ہفتے جوائننگ لیٹر آجائے گا، معیز صمد نے چہکتے ہوئے کہا
ارے واہ ، تمہیں کیسے معلوم ہوا، شہریار نے سیدھے بیٹھتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا
ماموں سے بات ہوئی تھی، اور ٹیسٹ کا رزلٹ تو اوپن کردیاگیا ہے ، تم دیکھا نہیں کیا؟، معیز صمد نے حیرانگی سے سوال کیا
نہیں میں نے دیکھا، ذہن سے نکل گیا تھا، شہریار نے بیچارگی کے ساتھ جواب دیا، اب وہ تبسم والی بات تو نہیں بتا سکتا تھا
اچھا !! ٹھیک ہے تم نیٹ پر رزلٹ دیکھ لو، میں اپنی تیاری میں لگا، یہ کہہ کر معیز صمد نے فون کاٹ دیا
خدا کا شکر ہے ، اچھی خبر سننے کو ملی۔ شہریار نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف کرکے شکرادا کیا
۔۔۔۔۔۔
بیٹا ۔ تمہاری بات ہوئی تبسم سے ؟پروفیسر عبدالرشید نے شہریار کو اسٹیڈی روم میں آتا دیکھ کر سوال کیا
جی پاپا!! ابھی کچھ دیر پہلے ہی ہوئی تھی، شہریار نے پروفیسر عبدالرشید کے برابر میں کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے جواب دیا
تو پھر اب خوش ہو یا نہیں ۔ پروفیسر عبدالرشید نے عینک نیچے کرکے مسکرا کر اپنے لخت جگر کو دیکھ کر پوچھا
جی پاپا!! بہت خوش ہوں، اور اب بس اسی ہفتے جوائننگ لیٹر آجائے گا تو پھر ٹریننگ پرچلا جاﺅں گا، شہریار نے بھی مسکرا کرجواب دیا
چلو اچھی بات ہے ، تم اپنی تیاری کرلو، اپنے بیگ میں ضروری سامان اور دستاویزات رکھ لو، کیوں کہ اکثر خوشی کے موقع پر انسان خطا کرجاتا ہے ، پروفیسر عبدالرشید نے دوبارہ کتاب پر نظر جماتے ہوئے کہا
جی پاپا!! میں بس وہی کرنے جا رہا تھا، اچھا چلتا ہوں ،شہریار نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہااور کمرے سے باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔

بس کچھ مہینوں کی تو بات ہے ، ٹریننگ کے فورا بعد آجاﺅں گا، تم پریشان مت ہو، شہریار آج بہت خوش تھا، اگلے روز اس کی روانگی تھی، اس کا خواب بس چند گھنٹوں کی دوری پر تھااور اس خوشی کے لمحات کو وہ تبسم کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا تھا، جب کہ تبسم بظاہر تو خوش دکھائی دے رہی تھی مگر وہ اندر سے انتہائی خوف زدہ بھی تھی ، اس کے ذہن میں بس ایک ہی سوال تھا ”اگر شہریار لوٹ کر نا آیا توکیا ہوگا“ اور اس ایک سوال نے اس کی راتوں کی نیندیں حرام کی ہوئیں تھیں، لیکن پروفیسر عبدالرشید کے سمجھانے پر وہ مان گئی کہ کچھ وقت کی تو بات ہے ، اسے اپنا خواب پورا کرنے دو، پھر وہ ہمیشہ کے لیے تمہارے پاس ہوگا، اور اس ایک ننھی سی امید پر وہ آج شہریار کے ساتھ بظاہر خوش دکھائی دے رہی تھی ۔
تم سن رہی ہونا میں کیا کہہ رہا ہوں ، شہریار نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
ہنہ!! ہاں میں سن رہی ہوں ، تبسم جو گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی دنیا سے بے نیاز تھی ، اچانک شہریار کے ہاتھ تھامنے پر وہ چونک سی گئی تھی
تم یہاں میرے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھی لنچ کررہی ہو، مگر مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ تم میرے ساتھ موجود ہی نہیں، کوئی پریشانی ہے تو بتاﺅ مجھے، شہریار نے ٹشو سے منہ صاف کرتے ہوئے کہا
نہیں شیری، ایسی کوئی بات نہیں ، بس ایسے ہی تمہارے جانے پر اداس ہوں ، تبسم نے منہ بناتے ہوئے کہا تو شہریار کھکھلا کر ہنس دیا
اچھا تو میرے جانے پر انار کلی اداس ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر ہم نہیں جاتے، شہریار شہزادہ سلیم کے انداز میں ڈائلاگ مارتے ہوئے کہا
اچھا!!!کیا میرے کہنے پر تم نہیں جاﺅ گے، بس رہنے دو، چھ مہینے سے تو کہہ رہی ہوں کہ مت جاﺅ، مگر تم سنتے کہاں ہو، تبسم نے مصنوعی روٹھنے کے انداز میں کہا اور شہریار کا منہ چڑا نے لگی
تبسم ، بس کچھ وقت کی تو بات ہے، جانے دو نا، پھر واپس لوٹ کر تو تمہارے پاس ہی آنا ہے ، بھلا وہاں سے کوئی میم تو نہیں ملنے والی جو اس طرح ادا س ہورہی ہوں ، شہریار نے بھی اسے تنگ کرتے ہوئے کہا
تم دوسری ، تیسری کی طرف آنکھ تو اٹھاکر دیکھو۔۔ دیکھنا تمہارا حشر کیا کرتی ہوں ۔۔ یہ کہہ کر تبسم ہنسنے لگی
ارے نہیں بابا۔۔ ایک تم ہی کافی ہو۔۔ باقیوں کے نخرے نہیں اٹھاسکتا۔۔ اب اتنی ہمت مجھ غریب میں بھی نہیں رہی ۔۔ شہریار نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور مسکرانے لگا
اچھا!!! تو تم میرے نخرے اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہو۔۔ میں نے بھلا کب تم سے نخرے کیے ہیں۔۔اتنی اچھی اور شریف بیوی ملی ہے تمہیں جو کسی چیز کی فرمائش تک نہیں کرتی، اور تم کہہ رہے ہو کہ میں نخرے کرتی ہوں ۔۔ تبسم نے پانی کا گلاس شہریار کی طرف اچھالنے والے انداز میں اسے ڈراتے ہوئے کہا
ارے ، ارے پانی مت پھینکا ، ورنہ ریسٹورنٹ والے ہمیں دھکے دے کر یہاں سے نکال دیں گے۔۔ شہریار نے تبسم کی طرف دونوں ہاتھ جوڑ تے ہوئے ہنسنے لگا۔
نہیں پہلے مجھے بتاﺅ میںنے کب نخرے کیے ہیں ، تبسم اپنی بات پر اڑ گئی
اچھا نخرے نہیں کرتیں۔۔ مان لیا۔ مگر ناراض بہت ہوتی ہوں۔۔ یہ تو تمہیں ماننا ہوگا
وہ تو میں اس لیے ناراض ہوتی ہوں کہ مجھے معلوم ہے کہ تم مجھے بار بار منا لوں گے۔۔ اور ویسے بھی سچ پوچھوں تو مجھے تمہارا منانابہت اچھا لگتا ہے ۔۔ بس اس لیے ہی بار بار روٹھ جاتی ہوں ۔۔ تبسم نے شہریار کی آنکھوں میں دیکھتے جواب دیا
اوہ!! تو یہ بات ہے۔ ویسے ایک بات کہوں ۔ شہریار نے تبسم کی آنکھوں میںجھانکتے ہوئے کہا
ہاں کہوں!!
یہ بات بات پر روٹھا مت کرو۔۔ جب ہم نہیں ہوں گے نا۔۔ تو کوئی منائے گا بھی نہیں ۔ یہ کہہ کر شہریار نے والٹ سے پیسے نکالے اور بل بک میں رکھ کر کرسی سے اٹھ گیا
شیری!!! آج یہ بات منہ سے نکالی ہے آئندہ کبھی اگر تمہارے منہ سے ایسے الفاظ سنے تو یقین کرو۔ میں تم سے بات کرنا چھوڑ دوں گی۔تبسم جو بوجھل دل کے ساتھ ہنسی مذاق کررہی تھی کہ شہریار کی اس بات نے اس کی آنکھوں کے تمام بندھن توڑ دیے اور آہستہ سے اس کے رخسار کو بھگونا شروع کردیا
ارے!!! میں مذاق کررہاہوں۔ اچھا بابا۔۔ نہیں کروں گاآئندہ ایسی کوئی بات۔ اب یہ دریائے راوی کو روک لو۔ ورنہ لوگ سمجھیں گے میں تمہارے ساتھ کوئی زبردستی کررہا ہوں۔ ۔ یہ کہہ کر شہریار نے تبسم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ ریسٹورنٹ سے باہر لے آیا۔ کچھ دیر گھوم پھیر کر وہ لوگ شام میں واپس گھروں کو لوٹ آئے ۔
اچھا اب اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا، میں یہاں نہیں ہوں گا اس لیے تمہیں خود اپنی کیئر کرنی ہے اور سب کو سنبھالنا بھی ہے ، شہریار نے گاڑی تبسم کے گھر کے سامنے روکتے ہوئے کہا
ہنہ!!! جانتی ہوں۔ مگر تم اپنا وعدہ یاد رکھنا ، روز فون کرو گے ، اور جلدی لوٹ کر آﺅ گے۔ میں روز اس دروازے پر کھڑی تمہارا انتظار کروں گی۔ تبسم نے شہریار کی طرف دیکھتے ہوئے اسے اپنا وعدہ یاددلایا
ہاں بابا جانتاہوں ۔ روز فون کروں گااور جلدی لوٹ کر آﺅں گا۔ اب خوش۔ شہریار نے مسکراتے ہوئے تبسم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ہاں !! اب خوش ہوں ۔ یہ کہہ کر تبسم اللہ حافظ کہہ کر گاڑی سے اتر گئی اورجب تک شہریارآنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا اس وقت تک دروازے پر کھڑی اسے دیکھتی رہی ۔
۔۔۔۔۔
شہریار اور معیز صمد اس وقت آرمی اکیڈمی کے پریڈ گراﺅنڈ میں کھڑے تھے ، ان دونوں نے کل ہی یہاں رپورٹ کیا تھا، اور آج ان یہاں پہلا دن تھا۔
شہریار اورمعیز صمد نے پہلے روزہی کئی دوست بنالیے تھے ، شام کو وہ جب ایک ساتھ ڈنر کررہے تھے اس وقت ہر کوئی اپنا اپنا تعارف کرا رہا تھا۔ دونوں کمیشنڈ آفیسر تھے لیکن انہیں ٹریننگ کے لیے سپاہیوں کے ساتھ ہی رہنا تھا۔ بھئی تم کہاں سے آئے ہو، خالد سلام نے معیز صمد اور شہریار سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا
ہم دونوں کراچی سے ہیں ، اور ایک ہی محلے میں رہتے ہیں ، معیز صمد نے جواب دیتے ہوئے کہا
یار کراچی تو بہت بڑا شہر ہے ، میں گیا تھا ایک بارکزن کی شادی میں ، سمندر کی تو بات ہی کچھ اور ہے ، خالد سلام نے جواب دیا
ہاں کراچی روشنیوں کا شہر ہے ، وہاں چوبیس گھنٹے چہل پہل رہتی ہے ، وہاں کبھی رات ہوتی ہی نہیں ، معیز صمد نے جواب دیا
ہاں یہ تو ہے ، خالد سلام نے کہا
اچھا آپ کہاں سے ہیں ، معیز صمد نے خالد سلام سے پوچھا
میری پیدائش تو سرگودھا کی ہے مگر پلا بڑھا چاچا کے گھر راولپنڈی میں ہوں ، خالد سلام نے جواب دیتے ہوئے
کیامطلب، تو آپ کے والدین کہاں ہیں ، معیز صمد نے چونکتے ہوئے پوچھا
جی بس کیا بتائیں ، ان کا تو چہرہ بھی یاد نہیں ،چاچا نے بتایا تھا کہ زمینوں کے معاملات کی وجہ سے دشمنی ہوگئی تھی اور مخالفین نے گھرمیں گھس کر فائرنگ کرکے میری ماں اور والد کو شہید کردیا، میں پالنے میں سو رہا تھا اس لیے ان کی نظر مجھ پر نہیں گئی، اور میں بچ گیا۔ پھر چاچا مجھے وہاں سے لے آئے اور راولپنڈی میں ہی رکھا، اور اب تک یہیں ہوں ،خالد سلام نے لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے جواب دیا
شہریار جو کافی دیر سے خاموش تھاخالد سلام کی باتیں سن کر افسردہ ہوگیا، کچھ ایسا ہی حادثہ اس کے ساتھ بھی ہوچکا ہے ، شاید یہ ہی وجہ ہے کہ وہ خالد سلام کا دکھ اچھے سے سمجھ سکتا تھا، اس لیے وہ فورا اپنی جگہ سے اٹھا اور خالد سلام کو گلے سے لگاتے ہوئے کہا
ہم سب تمہارے بھائی ہیں ، خود کو اکیلا مت سمجھنا، زندگی ہم سے ایسے کئی امتحانات لیتی رہتی ہے ، بس دعا کرو ہم اس امتحانات میں سرخرو رہیں
جی بادشاہوں۔ میں خوش ہوں۔ میںنے کبھی خود کو اکیلا محسوس نہیں کیا۔ سب میرے بھائی ہو۔ خالد سلام نے آنکھوں سے نمی صاف کرتے ہوئے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت گزرتا گیا اور پتہ ہی نہیں چلا کہ کب ٹریننگ ختم ہوگئی اورآج سب کی واپسی تھی ، چند دنوں کی چھٹیاں ملنے پر سب خوش تھے اور ان میں ہر کسی کے چہرے کھلے کھلے تھے ، آج گھروں کو واپسی تھی اور پھر چھٹیوں کے بعد ڈیوٹیاں جوائن کرنی تھیں ، شہریار اورمعیزصمد نے اپنے اپنے بیگ اٹھائے اور خالد سلام کی طرف چل دیے جو سب کے ساتھ ناچنے میں مصروف تھا۔ وہ کسی وجہ سے رک گیاتھا اور آج کے بجائے کل کی روانگی رکھ لی تھی۔ اس لیے سب کو الوداع کرنے کی ذمے داری نبھا رہا تھا۔
ہاں بادشاہوں ، تسی بھی جا رہے ہو، خالد سلام نے معیز صمد اور شہریار کو گلے لگاتے ہوئے کہا
ہاں بادشاہوں ، اسی بھی ہنڑ جارہے ہیں ،معیز صمد نے ہنستے ہوئے پنجابی میں ہی اسے جواب دیتے ہوئے کہا
بس اک گل دا افسوس رہے گا، خالد سلام نے دونوں کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے کہا
کس بات کا افسوس؟ معیز صمد نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
او بادشاہوں! اس گل دا افسوس رہے گا کہ میں شہریار کو پنجابی نہیں سکھا سکا، یہ کہہ کر تینوں نے زور سے قہقہ لگایا اور پھر سے گلے لگ گئے
ایسی گل نہیں میرے بھائی۔ شہریار نے کچھ کہنا ہی چاہا کہ خالد سلام نے اسے روکتے ہوئے کہا
بھئی تو اردو میں ہی بات کرلے ۔ میں سمجھ جاﺅںگا ۔ کیوں ہماری پیاری زبان کی ٹانگیں توڑ رہا ہے۔اتنا سن کر وہ تینوں پھر سے ہنسنے لگے اور پھر دونوں نے خالد سلام کو الوداع کیا اوراکیڈمی سے باہر نکل آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمرین بیگم کچن میں کھانا بنا رہی تھی کہ اچانک دروازہ بجنے کی آواز سن کر وہ گیٹ کی طرف بڑھ گئی
کون؟؟
آپ کا چہیتا۔۔ دروازے کے باہر سے شہریار کی آوازسن کر ثمرین بیگم نے فورا سے دروازہ کھول دیا۔
خداکا لاکھ لاکھ شکر ہے، میراشہریار صحیح سلامت میرے سامنے موجود ہے۔ ثمرین بیگم نے شہریار کو اپنے سے گلے لگاتے ہوئے کہا
ثمرین بیگم نے اپنے بیٹے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اوراس کے گال اور ماتھے کو چومنے لگیں
بیٹے کی آواز سن کر پروفیسر عبدالرشید بھی باہر آگئے تھے ، جو ماں بیٹے کا پیار دیکھ کر دل ہی دل میں سکون محسوس کررہے تھے
السلام علیکم پاپا!! شہریار نے اپنے والد کے پاﺅںکو چھووا اور پھر ان کے گلے لگ گیا، پروفیسر عبدالرشید نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگا کر جو اطمینان اور خوشی محسوس کی وہ اسے بیان کرنے سے قاصر تھے ، شہریار کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے بس اسے دیکھ رہے تھے ، لب خاموش تھے ، مگر سرگرشیوں میں باپ بیٹے کے درمیان بات چیت ہورہی تھی ، جو صرف اور صرف وہ دونوں ہی جانتے تھے ۔
اندر آنے کے بعد شہریا راپنے کمرے میں چلاگیا، فریش ہونے کے بعد واپس باہر نکلا تو ثمرین بیگم نے اس وقت تک اس پسند کا کھانا میز پر لگاچکی تھیں
آج میں نے اپنے بیٹے کی پسند کی ڈش بنائی ہے ، ثمرین بیگم نے پالک گوشت کا نوالہ لے کر شہریار کو کھلاتے ہوئے کہا
ماما!! قسم سے مزا آگیا۔اتنے دنوں بعد آپ کے ہاتھوں کا کھانا کر۔۔ شہریار نے کھانے کی تعریف کرتے ہوئےجواب دیا۔
مجھے معلوم ہے وہاں تجھے سوکھی روٹیاں ہی ملی ہوں گی ، اس لیے تو کمزور ہوگیا ہے۔ میرے بچے کو کھانا بھی نہیں دیتے تھے کیا تمہاری آرمی والے۔ ثمرین بیگم نے منہ بناتے ہوئے شہریار کو کھلاتے ہوئے کہا
ہاں !!آرمی والے سب کو بھوکا رکھتے ہیں ، بس کرو بیگم کیا ہوگیا ہے ۔ ماشاءاللہ اچھی خاصی جان بناکر آیا ہے تمہارا لعل ۔اور تم ہو کہ اسے کمزور کہہ رہی ہو۔ پروفیسر عبدالرشید نے ثمرین بیگم کی طرف دیکھا اورشہریار کو آنکھ مار دی
آپ کو لگ رہا ہے ،مگر مجھے یہ کمزور ہی لگ رہا ہے ، ثمرین بیگم نے بحث نہ کرتے ہوئے صرف شہریار کو کھانا کھلانے میںمصروف رہیں ۔
کھانا کھانے کے دوران اسی طرح ہنسی مذاق چلتا رہا ، کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب ثمرین بیگم کچن سے چائے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی تو دونوں باپ بیٹوں کو کسی بات پر بحث کرتے ہوئے پایا۔
کیا بات ہورہی ہے ، کس بات پر بحث چل رہی ہے دونوں باپ بیٹوں میں ۔ چائے کی ٹرے میز پر رکھی اور شہریار کے قریب بیٹھتے گئیں۔
کچھ نہیں بیگم۔۔ بس میں یہ کہہ رہاہوں شہریار سے کہ اب آئے ہو تو شادی کرکے ہی جانا، تم اکیلی ہوتی ہو۔ میں چاہتاہوں تمہارا ہاتھ بٹانے والی کوئی ہونی چاہیے۔ پروفیسر عبدالرشید نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا
ہائے!! پروفیسر صاحب۔ آپ نے آج میرے دل کی بات کہہ دی۔ ثمرین بیگم نے انتہائی مسرت بھری نگاہوں سے اپنے شوہر کی طرف لگیں
پاپا!! مگر دوماہ رک جاتے ۔ صرف دو ماہ کی تو بات ہے ، پھر کرلینا۔ابھی میری ایسی پوزیشن نہیں ہے اور نہ ہی میں نے تیاری کی ہے ۔ ڈیوٹی جوائن کرنے دیں ۔ پھر کرلوں گا۔ شہریار نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے اپنے والد کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔
بیٹا!! یہاں کس چیز کی کمی ہے ؟ ہم نے کونسا جہیز کی ڈیمانڈ کرنی ہے۔ اللہ کا دیا سب ہے اس گھر میں ۔ پھر تیاری کیسی۔بس کچھ مہمان ہوں گے اور شادی ہوجائے گی ۔بس اب تم ہاں کرلو، تاکہ میں کل ہی جاکر تبسم کے گھرجاکر بات کرلوں ۔
ماما!! میں صرف بیس دنوں کی چھٹی پر آیاہوں ۔ پھر ان بیس دنوں میں شادی کیسے ہو پائے گی۔ شہریار نے اپنی ماں کی طرف دیکھ کر احتجاج کیا
بیٹا! شادی ایک دن میں ہوجاتی ہے ، بیس دن تو بہت ہیں ۔ اور ویسے بھی تم نے کہا تھا کہ میں ٹریننگ کے بعد نوکری چھوڑ دوں گا،اب تم پھر کیوں جا رہے ہو واپس؟ ثمرین بیگم کو شاید شہریار اور پروفیسر عبدالرشید کا وہ وعدہ یاد آگیاتھا جو انہوںنے شہریار کے جانے سے پہلے کیاتھا۔
ماما! آپ کی بات درست ہے ، میں آرمی چھوڑ دوں گا۔ مگر جہاں اتنا انتظار کیا ہے وہاں تھوڑا اور کرلیں ۔ تاکہ میں ڈیوٹی تو جوائن کرلوں۔ شہریار نے جواب دیتے ہوئے بات گول کرنے کی کوشش کی
میں جانتی ہوں ، تم دونوں نے مجھے بے وقوف بنایا ہے ، اب تم پھر واپس جاﺅگے اور یہ سلسلہ اب ایسے ہی چلتا رہے گا، اس لیے مجھے کوئی اعتراض نہےں ۔ بس اب میری بات بھی رکھ لو۔ اور شادی کرکے ہی جانا۔ ثمرین بیگم نے اداس ہوتے ہوئے کہا
ماں کی بات سن کر پروفیسر عبدالرشید اورشہریار نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور آنکھیں چرالیں۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ واقعی انہوں نے ثمرین بیگم اور تبسم سے جھوٹ کہا تھا۔مگر اب کیا ہوسکتا ہے ۔
بیٹا!! کیا کہتے ہو پھر؟ تم جو فیصلہ کرو گے ہمیں منظور ہے۔ ہم تم پر کوئی زبردستی نہیں کرنا چاہتے اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی دباﺅ میں آکر اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کرو۔ اس لیے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ، پروفیسر عبدالرشید نے چائے کا کپ خالی کرتے ہوئے میز پر رکھا اور شہریار کی طرف دیکھا
جی پاپا۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں، اگر ان بیس دنوں میں شادی ہوسکتی ہے تو میں راضی ہوں ، میں تو صرف یہ چاہ رہاتھا کہ میں بھی کچھ بنا لیتا، ساری زندگی تو آپ لوگوں نے پال پوس کر بڑا کیا، اس لیے اب چاہتا تھا کہ شادی کے کچھ اخراجات میں بھی اٹھاﺅں، بس اور کوئی وجہ نہیں ہے ۔ شہریار نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا
جیتا رہے میرا لعل، یہ کہہ کر ماں نے اپنے لخت جگر کو اپنے سے لگایا اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر نے لگیں
یہ جو اتنا کچھ ہے یہاں کس کا ہے ، ہماری کوئی اور اولاد تو ہے نہیں جو اسے دیں گے، یہ سب تمہارا ہی ہے ، پھر تمہیں خرچے کی کیاپریشانی ہے، ثمرین بیگم نے شہریار کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑے پیار سے اس کی طرف دیکھ کرکہا
ماما!! یہ بات نہیں ہے ۔ مگر خود سے کچھ ہونا چاہیے نا۔ پہلے پاپا نے مجھے پالا، اب میری بیگم کو بھی ، اس لیے کہہ رہا تھا۔ شہریار نے ماں کا ہاتھ چومتے ہوئے کہا
مجھے تم پر فخر ہے شیری ۔ تمہاری سوچ اپنی جگہ ، مگر یقین کرو،تم ہی ہماری اولاد ہو، بس اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا، یہ سب تمہارا ہی ہے ، پروفیسر عبدالرشید نے شہریار کا ہاتھ دباتے ہوئے کہااور اٹھ کر جانے لگے
ابھی تبسم کے گھر فون کردواور بتادو کہ ہم کل تاریخ لینے آرہے ہیں ، شادی اسی ہفتے ہوگی۔ یہ کہہ کر پروفیسر عبدالرشید اپنے روم میں چلے گئے ، جب کہ شہریار کافی دیر تک اپنی ماں سے کیمپ میں گزرے دنوں کی باتیں کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادشاہوں ، شادی کرلی، بتایا بھی نہیں ، میں نے تو سوچا تھا اسی بہانے کراچی کا چکر لگ جائے گا، مگر اس کا بھی بیڑہ غرق کردیا تم نے ، خالد سلام کو معیز صمد نے بتایا کہ شیری کی شادی ہوچکی ہے تو اس نے رات کے دس بجے ہی شیری کو فون کرکے گلا گزاری کرنی شروع کردی
ارے ایسی بات نہیں ہے خالد بھائی،بس ماما نے فیصلہ کرلیا تھا تو ماننا پڑا۔ شہریار اپنی طرف سے صفائیاں دینے لگا
ایسی بات ہوتی تو تم مجھے کم از کم فون ہی کردیتے ۔ میں نے کون سا ٹرین میں آنا تھا، سیدھا جہاز میں بیٹھتا اور دو گھنٹے میں تمہارے پاس ہوتا، مگر نہیں ۔ تم تو پکے کراچی وال نکلے۔ خالد سلام نے شہریارکی باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے دکھ کا اظہار کیا
خالد بھائی کل چھوٹا سا ولیمہ رکھا ہے ، میں ابھی آپ کو دعوت دیتا ہوں ۔ او ر معذرت بھی چاہتا ہوں کہ آپ کو بتا نہیں سکا۔ شہریار نے ولیمے کی دعوت دیتے ہوئے کہا
اوئے بادشاہوں ، یہ ہوئی نا بات، مطلب ابھی ولیمہ نہیں ہوا۔۔ اوئے بلے بلے۔ پھر تو میں کل صبح کی فلائٹ سے کراچی آرہا ہوں ۔ اپنے یار کے ولیمے میں ضرور شرکت کروں گا
ہاں ضرور۔ میں کل تمہارا ائرپورٹ پر انتظار کروں گا۔ اور پھر مزید کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد خالد سلام نے فون بند کردیا
کس کا فون تھا۔ تبسم جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنا گھرچھوڑ کر شہریار کے گھررخصت ہوکر آئی تھی ، نے شہریار سے پوچھا
وہ کیمپ میں ایک بہت اچھا دوست بن گیاتھا خالد سلام، اس کا فون تھا ، معیز صمد نے اسے بتایا ہوگا کہ میری شادی ہوگئی ہے تو اس لےے غلہ کررہا تھا۔کل ولیمے کی دعوت دی ہے ۔ اور اس نے آنے کی ہامی بھرلی ہے۔شہریار نے تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا
چلوبھئی میرے بچے تھک گئے ہوں گے، اب یہ فوٹو سیشن بند کرو اور انہیں اپنے کمرے میں جانے دو، ثمرین بیگم نے مہمانوں کو مشروب پیش کرتے ہوئے کہا
ہاں بھئی ہماری تو کوئی ویلیو ہی نہیں ، ہم تو تھکے ہی نہیں ، صبح سے یہاں کام کررہے ہیں ، مگر فکر صرف شیری اور تبسم کی ہے ، ہماری فکر کسی کو نہیں ،تانیہ نے منہ بناتے ہوئے اپنی خالہ ثمرین بیگم کی طرف منہ بناتے ہوئے کہا
ارے تم تو میری جان ہو، تمہاری فکر سب سے زیادہ ہے ، بس اب تمہاری پڑھائی ختم ہو تو پھر تمہارے بھی ہاتھ پیلے کرتے ہیں ، ثمرین بیگم نے مسکرا کر تانیہ کو اپنے گلے لگاتے ہوئے کہا
مجھے نہیں کرنی شادی وادی، میں پڑھائی مکمل کرکے امریکا جاﺅں گی، ڈاکٹر بنوں گی پھر واپس آﺅں گی ، تانیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا
ہاں ، ہاں دیکھتے ہیں کیسے شادی نہیں کرتی، سب سے پہلے تم ہی شادی کرو گی دیکھ لینا، شمائلہ نے تانیہ کو چڑاتے ہوئے کہا اور اس کی بات پر سب کھکھلا کر ہنس پڑے ، جب کہ تانیہ کا منہ بن چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادشاہوں کراچی بہت بڑا ہوگیا ہے ، خالد سلام جو صبح کی پہلی فلائٹ سے ہی کراچی پہنچا تھا، شہریار اور معیز صمد کے ساتھ بیٹھا گفتگو کررہا تھا
ہاں بھئی کراچی ماشاءاللہ پورے 74سال کا ہوگیا ہے تو کیا اب بھی بڑا نہیں ہوگا۔ معیز صمد نے اس کی بات کا جواب دیا تو تینوں نے زور کا قہقہ لگایا
ارے میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا، ارے جو بھی مطلب تھا، اسے رہنے دو، یہ بتاﺅ راولپنڈی کتنے سال کا ہوگیا ہے ، معیز صمد نے خالد سلام کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور پھر تینوں ہنس پڑے
یار میں رات کو تمہارے ولیمے میں شرکت کرکے واپس جاﺅں گا، کچھ ضروری کام ہیں ، انہیں نمٹانا ہے ، چاچا نے کہا ہے کہ واپس جلدی آنا صبح زمین کے سلسلے میں گاﺅں جانا ہے ، خالد سلام نے شہریار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ارے یہ کیا بات ہوئی۔ صبح آئے ہو، کراچی دیکھا نہیں اور اب رات کو واپس جا رہے ہو، کم از کم ایک دن تو ہمیں مہمان نوازی کا موقع دو۔ شہریار نے خالد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
صبح سے اتنی جو مہمان نوازی کی ہے ، بہت ہے ، ایک دن اور رہا نا تو یقین کرو میرا پیٹ پھٹ جائے گا، ویسے اماں کے ہاتھ کا کھانا کھا کر مزا آگیا ہے ، خالد سلام نے شہریار کی طرف مسکراتے ہوئے کہا
ہاں یہ بات تم نے بالکل درست کہی ہے، اماں کھانا بہت اچھا بناتی ہیں ، معیز صمد نے جواب دیتے ہوئے کہا
اتنے میں دروازہ کھلا اور پروفیسر عبدالرشید کمرے میں داخل ہوئے
میں نے آپ لوگوں کو ڈسٹرب تو نہیں کیا، پروفیسر عبدالرشید نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا
نہیں انکل ایسی کوئی بات نہیں ، ہم تو بس اماں کے کھانے کی تعریف کررہے تھے ، خالد سلام نے پروفیسر عبدالرشید کو جواب دیتے ہوئے کہا اور ان کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا
ہاں بھئی ،آپ کی آنٹی کھانا بہت اچھا بناتی ہے اس میں کوئی شک نہیں، پروفیسر عبدالرشید نے خالد سلام کو جواب دیتے ہوئے کہااور شہریار کی طرف دیکھ کرکہنے لگے
بیٹا تم اپنے دوستوں کو لے کر جاﺅ اور رات کی تیاری کرو، میں بس یہ کہنے آیا تھا، اور خالد سلام کا کمرا صاف کرادیا ہے ، انہیں کمرا دیکھا دینا، صبح سے آئے ہوئے ہیں ، تھک گئے ہوں گے ، تھوڑا فریش ہوجانے دو ،
پاپا!! خالد سلام رات کو ہی واپس جا رہے ہیں ، انہیں صبح کچھ ضروری کام ہیں اس لیے ۔ شہریار نے پروفیسر عبدالرشید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
کیوں بھئی !!بیٹا خالد ، اگر رات رک جاتے تو ہمیں خوشی ہوتی، صبح ہی تو آئے ہو، پروفیسر عبدالرشید نے خالد سلام کی طر ف دیکھ کر کہا
انکل میرا اپنا دل چاہ رہا ہے کہ ایک دن رک جاﺅں۔ مگر چاچا نے کہا تھا کہ صبح زمین کے سلسلے میں جانا ہے تو اس لیے ضروری ہے ، خالد سلام نے اپنی مجبور بتا تے ہوئے کہا
اچھا!! چلو جیسے آپ کی مرضی ۔اب آپ لوگ اٹھیں اور ولیمے کی تیاری کریں، بس کچھ ہی دیر باقی ہے، اتنا کہہ کر پروفیسر عبدالرشید کمرے سے نکل گئے اور یہ تینوں بھی اپنی اپنی جگہ سے اٹھے اور تیاری میں مصروف ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں