جنون (محمد عارف میمن )

دوسرا اور آخری حصہ

ہاں تو مسٹر ہسبینڈجی ، کب چھوڑ رہے ہیں آپ یہ آرمی کو؟ تبسم نے سوالیہ نظروں سے شہریار کی طرف دیکھتے ہوئے کہاجو گاڑی ڈرائیو کررہا تھا، اس دوران معیز صمد جو پچھلی سیٹ پر بیٹھا موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا اچانک تبسم کے سوال پر چونک کر سیدھا بیٹھ گیا۔
بھابھی!!آرمی کیوں چھوڑے گا یہ ؟ میں اسے یہ کرنے ہی نہیں دوں گا، بھلا اب ڈیوٹی جوائن ہونے والی ہے تو آپ اسے نوکری چھوڑنے کا کہہ رہی ہیں، شہریار سے پہلے ہی معیزصمد نے تبسم کوجواب دے دیا۔
یہ تینوں ابھی کچھ دیر پہلے ہی خالد سلام کو ائرپورٹ چھوڑنے کے بعد واپس گھر کی طرف جارہے تھے ۔
صمد بھائی آپ تو کم از کم نہ بولیں۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ ٹریننگ کے بعد یہ جاب چھوڑ کر اپنا بزنس کرے گا۔ اوراب مجھے لگ رہا ہے کہ یہ اپنے وعدے سے منکر ہوچکا ہے ۔ تبسم نے پیچھے بیٹھے معیز صمد کی طرف منصوعی غصہ دکھاتے ہوئے کہا
ارے یار!! چھوڑ دوں گا۔۔ منع تو نہیں کیا نا۔۔ لیکن کچھ توصبر کرو۔ بس ڈیوٹی جوائن کرلو۔ پھر کچھ ہی عرصے میں نوکری سے استعفیٰ دے دوں گا۔ شہریار نے معصوم سی شکل بناتے ہوئے تبسم کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔
ہاں ،ہاں بناﺅ مجھے بے وقوف۔۔ پہلے ٹریننگ ۔ اب جوائننگ۔ پھر ریٹائرمنٹ تک انتظار کروں ۔ ایسا ہی ہے نا۔۔ تبسم نے غصہ دکھاتے ہوئے کہا
ایسا نہیں ہے !! میں نے کہا نا جہاں اتنا انتظار کیا وہاں تھوڑا اور کرلو۔ شہریار نے بے بسی والے انداز تبسم کی طرف دیکھ کرجواب دیا۔
مجھے معلوم ہے شیری تم نوکری نہیں چھوڑوں گے۔ اس لیے باتیں بنانے کی ضرورت نہیں۔ تم نے مجھ سے جھوٹا وعدہ کیا ۔۔ بس اس بات کاصدا افسو س رہے گا۔ تبسم نے شہریار کی بات کا جواب دیااور کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مصروف ہوگئی۔
بھابھی آپ ناراض مت ہوں ۔۔آج ہی آپ کا ولیمہ تھا۔ابھی تو خوشی کے دنوں کا آغاز ہے ۔پلیز!! اسے دکھ کی نظر مت کریں، معیز صمد نے تبسم کی طرف مسکرا کر دیکھا اور ہاتھ جوڑ دیے۔۔
اسے میری کسی خوشی کی پرواہ نہیں۔تبسم نے بدستور باہر کی طرف ہی دیکھتے ہوئے جواب دیا
اچھا ویسے آپ اس آرمی سے خوش کیوں نہیں ؟ معیز صمد نے اچانک کچھ سوچتے ہوئے تبسم سے سوال کیا
یہ بات تم اپنے دوست سے ہی پوچھ لو تو زیادہ بہتر ہے۔ اسے معلوم ہے کہ میں کیوں خفا ہوں اس تمہاری آرمی سے ، تبسم نے بدستور منہ بناکر جواب دیا
ہاں بھئی کیا بات ہے جو بھابھی آرمی جیسے اہم پیشے سے خوش نہیں؟۔معیز صمد نے شہریار کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا
یار !! کوئی خاص بات نہیں ۔ بس اسے آرمی سے خوف آتا ہے ۔ اس کا ماننا ہے کہ جو آرمی میں جاتا ہے وہ واپس نہیں آتا۔ محترمہ کی فرینڈ کے شوہر آرمی میں تھے۔۔ شہریار نے کچھ توقف کیا اور پھر کہا۔۔اب وہ شہادت کے رتبے پر فائز ہوچکے ہیں۔۔بس اس بات کا خوف ہیں انہیں۔۔شہریار نے مختصر جواب دیا اورخاموش ہوگیا۔
بھابھی !!آپ کو اس بات سے خوف ہے کہ اگر یہ شہید ہوگیا تو کیا ہوگا۔۔ لیکن آپ بے فکر رہیں ۔۔میں اسے اپنے حصے کی شہادت نہیں لینے دوں گا، معیز صمد نے قہقہ لگاتے ہوئے تبسم کو چھیڑتے ہوئے کہا
تبسم اچانک بھڑک اٹھیں اور غصے سے معیز صمد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔اپنی بکواس بند کرو تو زیادہ اچھا ہے۔۔ مجھے یہ فضول کی باتیں بالکل پسندنہیں ۔۔
اوکے! اوکے ! ناراض مت ہوں۔ نہیں کرتافضول باتیں۔معیز صمد نے ایک مرتبہ پھر کان پکڑ لیے اور کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد اچانک کہا
بھابھی !!میرا آپ سے وعدہ ہے جب تک میری سانس میں سانس ہے ۔اسے کچھ نہیں ہوں دوں گا۔۔
جو دل میں آئے کرو۔ یہ کہہ کر تبسم نے پھر کسی بات کا جواب نہیں دیا۔۔ باقی کا سفر خاموشی سے گزارا وہ تینوں گھر پہنچ گئے۔ تبسم گاڑی سے اترتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی، جب کہ معیز صمد شہریار کچھ دیر اس مسئلے پر گفتگو کرنے لگے۔
یار بھائی تو اس مسئلے کو سنبھال۔ بہت سیریز معاملہ ہے۔ میں توچلا۔ ۔۔معیز صمد نے شہریار کے کاندھے پر اپنے ہاتھ کا دباﺅ ڈالا۔ اور اپنے گھر روانہ ہوگیا۔ اور شہریار بوجھل قدموں کے ساتھ گھرمیں داخل ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ آپ لوگ آج دنیا کی بہترین فوج کا حصہ بن کر اپنی اپنی ذمے داریاں نبھانے کے لیے بالکل تیار ہوچکے ہیں۔ اس اکیڈمی میں ہونے والی تربیت آپ کو دنیا کی بہترین فوج میں شمار کرتی ہے۔آپ لوگ خوش نصیب ہیں کہ آج آپ اس ملک کے دفاع اور کروڑوں لوگوں کی حفاظت کے لےے اپنی اپنی کمان سنبھالیں گے۔ میں آپ لوگوں سے امید کرتا ہوں کہ آپ اس ملک کے دفاع ، اس کے وقار اور سلامتی پر ذرا برابر بھی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس عظیم مٹی کی حفاظت کرتے رہےں گے۔
آج سے اس ملک اورقوم کی حفاظت کی ذمے داری آپ کے فرائض میں شامل ہے ۔
لیکن!!! جانے سے پہلے میں آپ لوگوں سے صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ آپ جو کچھ بھی ہیں اس ملک کی وجہ سے ہیں ، آج آپ کے سینے پر جو وردی ہے یہ اس ملک کی امانت ہے ، مجھے امید ہے آپ ہر حال میں اس کا دفاع کرےں گے ۔۔ اوراس وردی اور اس ملک کی حرمت پر آنچ تک نہیں آنے دیں گے۔ اور نہ ہی اس عظیم پرچم پر کبھی کوئی داغ لگنے دیں گے۔
پاسنگ آﺅٹ پریڈ سے فارغ ہونے کے بعد کیمپ کمانڈر کے پرجوش خطاب پرتمام جوانوں نے بیک وقت یس سر کہا۔۔اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنی بیرکوں میں واپس چلے گئے جہاں ان کا سامان پہلے سے ہی تیار تھا۔
شہریار ،معیز صمد اور خالد سلام بھی واپس آچکے تھے اور وہ بھی ڈیوٹی پر جانے کے لیے تیار تھے ، خوش نصیبی سے تینوں کو ایک ہی جگہ بارڈر پر بھیجا جارہاتھا۔ تینوں دوست اس بات سے بہت خوش بھی تھے کہ ساتھ رہنے کا مزید موقع مل رہا ہے۔
بادشاہوں مجھے لگتا ہے جہاں ہم جا رہے ہیں وہاں سے اپنی واپسی نہیں ہوگی، سنا ہے سیاچن میں بہت ٹھنڈ پڑتی ہے۔اور وہاں کے پہاڑوں پر سال کے بارہ مہینے سفیدی چادر چھائی ہوتی ہے ۔ خالد سلام نے بیگ کاندھے پر لادتے ہوئے معیز اور شہریار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
مزا آئے گا یار۔۔ کراچی میں تو بارش کو ترستے ہیں ۔۔ برف دیکھنے بھی مری آتے ہیں ۔۔ اب یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ چھ ماہ تک برف میں رہیں گے۔ ۔میں تو بہت خوش ہوں ، معیز صمد نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
بادشاہوں!!!فکر نہ کر۔۔۔ تیرا یہ مزا وہاں جاکر جلد ہی ہوا ہونے والا ہے۔۔ ساڈی تے پھر خیراے۔۔سرد علاقوں میں آتے جاتے رہنے سے عادی ہوچکے ہیں۔ اور سردی بھی برداشت کرلیتے ہیں ۔۔۔ مگر سنا ہے کراچی والے بڑے کمزور دل کے ہوتے ہیں ۔۔ ان سے کراچی کی سردی بھی برداشت نہیں ہوتی ۔ ۔اور جیکٹیں پہن کر گھومتے ہیں۔۔ خالد سلام نے قہقہ لگاتے ہوئے معیز کی طرف دیکھا تو شہریار بھی ہنس پڑا۔
بھئی یہاں اتنی سخت ٹریننگ کس لیے لی ہے ۔۔ یہاں رہ کر ہم نے جو سیکھا ہے وہ وہاں اپلائی کریں گے نا۔۔ ڈرنے کی کیا بات ہے۔ شہریار نے خالد سلام کو جواب دیتے ہوئے کہا
بادشاہوں!! تیری تو ابھی شادی ہوئی ہے مہینہ بھی نہیں ہوا۔ توایک کام کر مزید چھٹیا ں لےکر گھر چلا جا۔۔کچھ دیر شہریار کا منہ دیکھ کر خالد سلام نے پھر کہنا شروع کیا۔ مگرتو ہے نا کراچی والا ۔۔ ایڈونچر کے لیے ہی ترستارہتا ہے ۔۔ اور ایک بار پھر بیرک میں قہقہ لگا۔۔
یار خالد!! تم بار بار یہ کراچی والے ۔۔کراچی والے کیوں کہتے ہوں۔۔ کیا کراچی والے تمہاری نظر میں بزدل ہیں ؟ یا پھر ان سے سخت کام نہیں ہوتے؟ معیز صمد کو خالد سلام کی اس بات پرشاید غصہ آگیا تھا
بادشاہوں !!ایسی بات نہیں ۔ بس سنا ہے کہ کراچی کے لوگ بڑے دل کے ہوتے ہیں۔۔مگر سخت کام سے پرہیز کرتے ہیں ۔۔ اس لیے کہا۔۔ باقی کوئی بات نہیں۔۔خالد سلام نے معیز صمد کو گلے لگاتے ہوئے جواب دیا۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔کراچی کے لوگ بڑے دل کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے کام کرنے کے بھی عادی ہیں۔۔اور وہاں کے لوگ سخت کام سے کبھی نہیں گھبراتے ۔۔ ہم نے ہر سخت مشکلات کا مسکرا کر مقابلہ کیا ہے۔ کراچی کی بدامنی کو بھی ہم نے جھلا ہے۔ وہاں کے بدترین مسائل کو بھی دیکھ رہے ہیں۔مگر پھر بھی جی رہے ہیں ۔۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا نا کہ کراچی والے سخت جان ہیں۔ شہریار نے مسکرا کر جواب دیا اور اس کے بعد یہ تینوں ٹرک پر سوار ہوگئے۔ جو روانگی کے لیے تیار کھڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ گھنٹوں کے سفر کے بعد یخبستہ ہواﺅں نے تمام جوانوں کا استقبال کیاجو ٹرک میں بیٹھے اپنی منزل کی جانب گامزن تھے ۔ جیسے جیسے منزل قریب آتی جارہی تھی ویسے ویسے موسم سرد سے سر د ہوتا جارہاتھا۔ کئی گھنٹوں کے سفر نے تمام جوانوں کو تھکن سے دوچار کردیا تھا،مگران کے حوصلوں اور جذبے کے آگے یہ ہوائیں اور سرد موسم بے معنی سا لگ رہا تھا۔ مزید کچھ فاصلے کے بعد اب برفیلے پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا،ہر طرف پہاڑوں پر سفید چادر نظرآرہی تھی۔ ٹرک میں موجود ہر جوان ان دلکش مناظر کو اپنی آنکھوں میں قید کررہاتھا۔
یار وہ دیکھوں!! اچانک خالد سلام نے انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو سب کی نظریں اس کی انگلی کا تعاقب کرتے ہوئے اس جگہ جم گئی جہاں بادلوں کو چھوتا پہاڑ سفید چادر اوڑھے ہوئے اپنی دلکشی کے گیت سنا رہا تھا۔
معیز صمد اور شہریارسمیت کئی جوان ٹرک میں ایسے تھے جو پہلی مرتبہ یہ منظر دیکھ رہے تھے ، وہ سب اس منظر کو دیکھ کر اسے ہمیشہ کیلیے اپنی آنکھوں میں قید کرنا چاہتے تھے۔ شاید انہےں دوبارہ کبھی یہ منظر دیکھنے کو نہ ملے۔ مگر تمام جوان اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ جہاں وہ جا رہے ہیں یہ ان کی منزل ہی ہے۔ اور وہاں ایسے دلکش منظر ہر سو پھیلے ہوں گے۔۔
اب سیاچن کا سرد ترین موسم اور بادلوں کو چھوتے پہاڑ ان کے استقبال کے لےے بانہیں پھیلائے کھڑے تھے۔۔
ابھی سب اس منظر کے سحر سے بھی نکلے تھے کہ اتنے میں دلاور نے اپنی سریلی آواز میں کچھ گانا شروع کردیا۔
اے وطن تیرااشارہ آگیا۔
ہر سپاہی تو پکارا۔ آگیا
اے زمین ،آسمان ساتھ
بھائیوں کرو، بلندہاتھ
یوں کہوں بلند سنے سارا جہاں
نعرہ تکبیر۔ اللہ ہوں اکبر
جب دلاور نے نعرے تکبیر کہا تھا توٹرک میں موجود تمام جوانوں نے باآواز بلند اللہ اکبرکا نعرہ لگایا۔جس سے پہاڑوں میں جیسے جان سی آگئی اور وہ اللہ اکبر کی صدا پر جھومنے لگے ہوں ۔ سفر آہستہ آہستہ گھٹا جارہا تھااور منزل بھی قریب سے قریب تر ہوتی جارہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماما!! شہریار کی کوئی کال ؟ ، تبسم نے صبح اٹھتے ہی معمول کی طرح سلام کے بعد شہریار کا ہی پوچھا
نہیں بیٹا!! کوئی رابطہ نہیں کیااس نے ابھی تک۔۔ ثمرین بیگم نے ناشتہ میز پر سجاتے ہوئے کہا
بیٹا وہ ایسی جگہ ہوگا جہاں سگنل نہیں آتے ہوں گے۔ شاید اس لیے ہی رابط نہیں کیاہوگا۔۔۔ تم بے فکر رہو۔۔ضرور خیریت کی خبر آجائے گی۔پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔پروفیسر عبدالرشید نے چائے کی پیالی اپنی طرف کھسکاتے تبسم کو مسکرا کر جواب دیا۔
پاپا!!مجھے بہت فکر ہورہی ہے ۔۔۔ میرا دل بار بار ڈوبتا جاتا ہے ۔۔ میں کیاکروں ۔۔ خود کو بہت ریلیکس رکھنے کی کوشش کرتی ہوں ۔۔مگر ۔۔ تبسم نے جملہ ادھورا چھوڑ کر آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا
بیٹا وہ مجاہد ہے۔۔ اس ملک کا سپاہی ہے۔۔ تم خوش نصیب ہوں کہ تم ایک مجاہد کی بیوی ہو۔۔ یہ شرف اللہ ہر کسی کو نہیں دیتا۔ یہ کسی کسی کوملتاہے ۔۔ ہمت سے کام لو۔ مجاہدکے اہل خانہ بھی مجاہدہی ہوتے ہیں اور ان کے دل بھی بہت بڑے ہوتے ہیں۔ پروفیسر عبدالرشید اپنی جگہ سے اٹھ کر تبسم کے پاس چلے گئے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیراسے تسلی دی۔
بیٹا!! بات یہ ہے کہ شہریار بچپن سے ہی فورس کے لےے جنونی رہا ہے ۔اس کی محبت اورولولہ دیکھ کر مجھے ایسے لگتا تھا کہ اگر میں نے اسے نہیں جانے دیا تو شاید وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کرپائے گا۔۔ ہماری اور تمہاری خاطر وہ نہ جاتا۔۔ مگر تمہیں کیا لگتا ہے کہ وہ اندر سے ٹوٹ نہیں جاتا؟ بالکل ایسا ہی ہوتا ۔ خود کو دلاسہ دینے سے بہتر ہے کہ تم اسے بھی دلاسہ دوکہ ہاں میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔ تم اپنی خوشی کے لیے اس کو یہاں رکھنا چاہتی ہوں ۔۔ اور اس کی خوشی بارڈر پر جانے کی ہے ۔ایسے میں بتاﺅ کیا تم اپنی خوشی مار سکتی ہو؟ پھر بھلا وہ کیسے اپنی خوشی مار سکتا ہے؟ زندگی کا دوسرا نام سمجھوتا ہے ۔ جو انسان زندگی سے سمجھوتا نہیں کرتا وہ ایک دن ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔۔ میں تمہارے باپ کی جگہ ہونے کے ناطے تم سے صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اداسی اور مایوسی کفر ہے ۔شہریار اور اس کے تمام ساتھیوں کی خیریت کی دعا کرتے رہا کرو۔ پروفیسر عبدالرشید اتنا کہہ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ جب کہ تبسم اور بیگم ثمرین ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھے رہے۔۔
میرے خیال سے تمہارے پاپا ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔ ہمیں اپنی خوشی کا خیال ہے لیکن ہم اس کی خوشی بھول رہے ہیں۔۔ اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔۔ بس ہمیں اب اس کے لیے خیریت کی دعا کرتے رہنا چاہیے ۔ اسے ہماری دعاﺅں کی ضرورت ہے۔ اگر شہریار نے ہمیں اس طرح پریشان دیکھ لیا تو مجھے یقین ہے کہ وہ اپنا خواب ادھورا چھوڑ دے گا۔ ۔۔لیکن !!!پھر شایدوہ کبھی خوش نہیں رہ پائے گا۔ ثمرین بیگم نے تبسم کی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگایا اور ماتھا چوم لیا۔
جی ماما!!! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔۔ ہمیں اب زندگی سے سمجھوتا کرنا ہوگا۔۔ اسی میں شاید سب کی بھلائی ہے۔۔ میںکوشش کروں گی کہ اب شہریار کو کبھی تنگ نہ کروں۔۔ اور نہ ہی کبھی اسےآرمی چھوڑنے کیلیے دباﺅ ڈالوں گی۔۔۔لیکن!!! تبسم اتنا کہنے کے بعد چپ ہوگئی اورپھر کچھ دیر توقف کے بعد کہا۔۔ماما!! مگر میں اپنے اندر کے ڈر کا سامنا کیسے کروں؟؟ میں کیسے خود کو دلاسہ دوں؟ میں کیسے شہناز کو بھول جاﺅں؟؟ ماما!! مجھ میں اتنا بڑا ظرف نہیں۔ ۔ میں اپنی پوری کوشش کرتی ہوں ۔۔ مگر شہناز کی اداس آنکھیں ، اس کا چہرہ ۔۔ ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ ۔ میں اس خوف سے باہر نکل ہی پا رہی ۔۔ مجھے بتائیں میں ایسا کون سا وظیفہ پڑھوں۔ ۔ کون سی نمازیں پڑھوں ۔۔ کون سی آیتیں پڑھوں ۔ ۔ جس سے میرا یہ خوف ختم ہو۔۔ تبسم کی آنکھوں میں موجود نمی اب اس کے سرخ گالوں کو بھگو چکی تھیں۔ اب لفظ اس کے منہ سے نکلنے کے بجائے آنکھوں کی زبان بیان کررہے تھے۔
میرے بچے!! شیر بنو۔۔ تم ایک آرمی آفیسر کی بیوی ہو۔۔ اس طرح اگر روﺅں گی تو پھر۔۔۔ مجھے کون حوصلہ دے گا؟؟ تم اگر بیوی ہو تو۔۔۔ میں بھی ایک ماں ہوں۔۔ بیٹا !! خدا کے لیے اپنے اندر کے خوف کو ختم کرو۔ثمرین بیگم نے ڈوپٹے سے اپنی بھیگی آنکھوں کو صاف کیا اور چائے کے برتن اٹھا کر کچن کی طرف چلی گئیں۔ جب کہ تبسم اپنی جگہ بت بنی رہ گئی۔
۔۔۔۔۔

شہریار ، معیز صمد اور خالد سلام کو سیاچن آئے اب چار مہینے ہوچکے تھے اور اب اس ماحول مےں رہنے کے عادی بھی ہو گئے تھے ۔۔شروع شروع میں کافی پریشانی کا سامنا کرناپڑا۔۔لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ پریشانیاں آسانیوں میں تبدیل ہوتی گئیں۔۔۔ اکیڈمی کی سختیاں اب انہیں راحت پہنچارہی تھی۔بے شک سختیوں کے بعد ہی آسانیاں ہوتی ہےں۔
بادشاہو!! آﺅ لڈو کھیلتے ہیں۔ کافی دن ہوگئے کوئی بازی نہیں لگائی۔ خالد سلام نے معیز صمد اور شہریار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو کچھ دیر پہلے ہی اپنی اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہوکر کیمپ میں آکر بیٹھے تھے۔
ہاں ، ہاں کیوں نہیں۔۔ پہلے والی بازیاں یاد نہیں رہی کیا؟؟ معیز صمد نے خالد سلام کو چڑاتے ہوئے کہا۔
بادشاہو!! جب بندے کی قسمت خراب ہو نا تو اونٹ پر بیٹھے بندے کو بھی کتا چک مار لیتا ہے۔ اس دن میری قسمت بھی کچھ ایسے ہی تھی۔ خالد سلام نے لڈو نکالتے ہوئے جواب دیا۔
تو کیا آج اپنی قسمت چوہڑ چوک سے پالش کرواکر لائے ہو۔۔ معیز صمد بھلا کہاں باز آنے والا تھا۔۔
اچھا۔ اچھا ۔ اب زیادہ باتیں مت کر۔ آجا بازی لگاتے ہیں۔ دیکھتے ہیں آج کس کی قسمت عروج پرہے اور کس کی زوال کی طرف ۔۔ خالد سلام نے گیم لگاتے ہوئے ڈبیا گھوماتے ہوئے شہریار اورمعیز صمد کی طرف مسکرا کردیکھتے ہوئے جواب دیا۔
چل دیکھتے ہیں۔ آج تو کون سا چند توڑ کر لاتا ہے۔ یہ کہہ کر معیز صمد آلتی پالتی مار کر خالد سلام کے سامنے بیٹھ گیا۔
شہریار ۔۔ تم غور سے دیکھنا۔۔ یہ کوئی چیٹنگ نہ کرے۔ مجھے اس پر بھروسہ نہیں۔ آج ضرور یہ کوئی گیم کرے گا۔ معیز صمد نے شہریار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو ایک طرف بیٹھا ان کی باتیں سن کر مسکرا رہا تھا۔۔
نہیں بھائی۔۔مجھے معاف کرو۔۔ تم دونوں گیم کم کھیلتے ہو۔۔ لڑتے زیادہ ہو۔۔ میں تمہارا امپائر نہیں بن سکتا۔۔ شہریارمختصر جواب دیااور کھسک کر ان کے قریب آگیا۔ کیوں کہ وہ کھیل کر بوریت اور دیکھ کر زیادہ مزے لیتا تھا۔
یہ لے پھر چھ۔۔ ساتھ ہی خالد سلام نے جیسے ہی ڈائس پھینکی تو اتفاق سے چھ ہی آیا۔۔
اوہ جی ۔۔ ویکھ لو۔۔ بادشاہو!! میںنے کہا تھا نا آج میری قسمت عروج پر ہے۔خالد سلام چھ آنے پر چہکتے ہوئے معیز صمد کا منہ چڑانے لگا۔
ارے بھائی ۔۔ آج واقعی تو چوہڑ چوک سے اپنی قسمت پالش کروا کر آیا ہے۔ مجھے یقین ہوگیا۔ اب آگے بھی چل دے۔۔۔ معیز صمد خالد سلام کو تنگ کرنے والے انداز میں جواب دیا۔
ابھی خالد سلام نے دوسری مرتبہ ڈائس بورڈ پر پھینکا ہی تھا کہ باہر سے اچانک فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔
حملہ ۔۔ حملہ ۔۔۔ حملہ ۔۔ پوزیشن سنبھالو۔۔ باہر سے فائرنگ اور گونجتی آوازوں پر تینوں فورا اپنی جگہ سے سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اٹھے اور اپنا اسلحہ لے کر باہر نکل کر اپنی اپنی پوزیشن پر پہنچ گئے۔
ہر طرف نعرے تکبیر کے نعرے گونجنے لگے۔
بھارتی فورسز نے سیز فائر کرنا شروع کردیے ہیں۔شہریار ، معیز اور خالد جیسے ہی مورچے پر پہنچے تو دیگر ساتھیوں میں سے ایک نے چیخ کر کہا
بادشاہو!!!ان کی ایسی کی تیسی۔۔۔ اب دیکھ ۔۔ ان کو نانی یاد نہ دلائی تو میرا نام بھی خالد سلام نہیں۔
فائرنگ کا سلسلہ رات دیر تک چلتا رہا، پھر کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔

میں زرا نیچے جاکر پوزیشن دیکھتا ہوں کہیں دشمن اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر بڑے حملے کی تیاری نہ کررہا ہو، خالد سلام نے اپنا اسلحہ اٹھاتے ہوئے کہااور اپنی پوزیشن چھوڑ کر نیچے کی طرف چلا گیا جہاں ہر طرف برف کی سفید چادر نظر آرہی تھی ۔ وہ پھسلتا ہوا نیچے کی جانب جا رہا تھا جہاں اس کے دیگر ساتھی بھی موجود تھے ۔
خالد سلام کے نیچے پہنچتے ہی فائرنگ کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیااور دیکھتے ہی دیکھتے فائرنگ مارٹر گولوں کی شکل اختیار کر گئی، اس مرتبہ دشمن نے اندھیرے کا سہارا لیتے ہوئے چھپ کر وار کیا تھا، لیکن یہاں پوزیشن سنبھالے جوان بھی ان سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہ ہوئے تھے اور بھرپور جواب دیتے ہوئے ان پر حملہ شروع کردیا۔
شہریار تم اپنی پوزیشن پر ہی رہنا ۔۔میں دوسری طرف سے دشمن کو چکما دینے کی کوشش کرتا ہوں ، معیز صمد نے کہااور وہ دوسری پوزیشن پر چلا گیا۔
شہریار اور ایک جوان اکیلے رہ گئے اور وہ یہاں سے مسلسل دشمن کو جواب دے رہے تھے ۔
فائرنگ اور مارٹر گولوں کی بارش صبح تک ہوتی رہیں ، اور جب صبح کے اجالے نے اپنی پہلی کرن زمین پر پھینکی تو فائرنگ کا سلسلہ تھم چکا تھا، ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ شہریار نے وائر لیس پر معیز صمد سے رابطہ کیا تو وہاں سے کوئی جواب نہیں مل رہاتھا۔
مبین تم اپنی پوزیشن سنبھال کر رکھنا ۔۔ میں ذرا معیز صمد کی طرف جا رہا ہوں۔۔ مسلسل رابطے میں رہنا۔ یہ کہہ شہریار معیز صمد کی پوزیشن پر چلا گیا۔ ابھی وہ پوزیشن سے چند قدموں کے فاصلے پر ہی تھا کہ اسے معیز صمدبے ہوش برف پر پڑا نظرآیا۔ وہ شدید زخمی ہوچکا تھا۔ رات کو کسی وقت دشمن کی گولیوں کا نشانہ بناتھا۔۔اس کی حالت بہت زیادہ خراب تھی ۔۔شہریار نے فورا اسے سنبھالا دیا اور وائرلیس پر مسلسل مدد کے لیے پکارتا رہا۔۔ کچھ ہی دیر میں دیگر جوان بھی اپنی اپنی پوزیشنوں سے باہر نکل کر شہریار کی طرف لپکے اور پھر معیز صمد کو اٹھا کر کیمپ میں لے جایاگیا جہاں فورا اس کو طبی امداد دی جانے لگی۔ معیز صمد کو کیمپ میں چھوڑ کر وہ خالد سلام کی تلاش میں نیچے دوسری پوزیشن پر جانے لگا۔
شہریار جیسے ہی نیچے آیا تو وہاں چار جوان جن میں خالد سلام بھی شامل تھا۔۔ جام شہادت نوش کرچکے تھے۔۔ لیکن وہ دشمن کو وہ سبق دے گئے کہ وہ اسے ہمیشہ یاد رکھے گا۔۔ ان چاروں جوانوں نے دشمن کوبھاری جانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی پہنچا یا تھا۔ وہاں سامنے دشمن کے بیسوں کیمپ راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے ۔۔ اور جگہ جگہ دشمنوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔۔۔ شہریار نے فورا کیمپ میں رابطہ کیا اور انہیں یہاں کی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے چند جوانوں کو طلب کیاجن کی مدد سے ان چاروں جوانوں کے جسد خاکی اٹھا کر اوپر کیمپ میں لائے گئے۔
رات کے اچانک حملے کی خبر ہیڈکوارٹر پہنچ گئی تھی ۔ جہاں سے فوری امداد روانہ کردی گئی۔
کچھ دیر بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہریار زخمیوں اورشہید جوانوں کے جسد خاکی لے کر ہیڈکوارٹر کی جانب چل پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معیز صمد اور دیگرساتھیوں کو اسپتال میں داخل کرانے کے بعد شہریار خالد سلام کے تابوت کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔۔پوری قوم کوان جوانوں کی بہادری پر تاقیامت فخر رہے گا۔۔ اچانک میجر عرفان نے پیچھے سے آکر شہریار کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔
شہریار نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور سلوٹ کرتے ہوئے اپنے جذبات کو قابوکیا۔
میجر عرفان نے سلو ٹ کا جواب دیا اور کہا۔۔ شہریاریہ فوج کا حصہ ہے ،اپنے شہید ساتھیوں کے سامنے کھڑے ہوکر آنسو نہیں بہائے جاتے۔۔ ہاں ۔۔کوئی شہادت کا رتبہ پاکر ہم سے بچھڑ جاتا ہے اور کوئی غازی بن کر ہماری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے ۔۔ ان شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کی بدولت ہی قوم سکون سے سوتی ہے ۔۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی حفاظت کے لیے لاکھوں جوان بارڈرز پرچاک وچوبندرہ کر ان کی نگہبانی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ہمیں ان شہادتوںاور قربانیوں کو بھولنا نہیںچاہیے ۔ ہمت سے کام لو شہریار۔ اس طرح اداس ہونے سے کچھ نہیں ہوگا، اب میں تمہارے چہرے پر اداسی نہ دیکھوں، یہ کہہ کر میجر عرفان وہاں سے چلے گئے۔
شہریار کو اس وقت ہوش آیا جب خالد سلام کا جسد خاکی آرمی ایمبولینس مےں ڈالا جانے لگا، شہریار نے اپنے یار کا آخری دیدار کیا اور نم آنکھوں سے اسے آخری الوداع کہا۔
خالد سلام ۔۔ واقعی آج تمہارا دن تھا۔ تم نے صحیح کہا تھا۔۔آج تمہاری قسمت عروج پر ہے۔۔اور میری قسمت ۔۔۔ شاید ابھی وہ عروج حاصل نہیں ہوا۔۔
کاش خالد میں تمہیں اس وقت جانے سے روک دیتا۔۔ کاش تمہاری جگہ میں چلا جاتا۔۔۔ لیکن میں یہ کام نہیں کرسکا۔۔ شاید یہ عظےم رتبہ خدا نے تمہارے لیے چنا تھا۔۔شہریار دل ہی دل میں سوچتا ہوا آئی سی یو کی طرف چل دیا جہاں معیز صمد کو ابھی کچھ دیرپہلے لایاگیا تھا۔۔ شہریار باہر سے ہی معیز صمد کو دیکھ کر واپس پلٹا اور بوجھل قدموں سے واپس اسپتال سے باہرایک بینچ پر آکر بیٹھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو!! السلام علیکم شہریار بیٹے کیسے ہو۔ طبیعت کیسی ہے۔ اتنے عرصے رابطہ کیوں نہیں کیا۔۔ تمہیں معلوم ہے میں کتنی پریشان ہوگئی تھی۔ ثمرین بیگم نے آج پھر سے شہریار کا نمبر ڈائل کیا تو سامنے بل بجتے ہی دل کی ڈھرکنیں تیز ہوگئیں۔اور جب شہریار نے فون اٹھا یا تو سوالات کی بوچھاڑ کردی ۔
جی ماما !! میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ۔شہریار نے تمام سوالات کا مختصرجواب دیتے ہوئے کہا
میں ٹھیک ہوں ۔۔ تم نے اتنے عرصے رابطہ کیوں نہیں کیا۔۔ یہاں سب پریشان ہورہے تھے۔۔ثمرین بیگم نے پھر سے اپنا سوال دہرادیا
ماما!! وہ سیاچن میںجس جگہ ہم ڈیوٹی دے رہے ہیں وہاں کوئی ٹاور نہیں،س لیے رابطہ نہیں ہوسکا، شہریار نے آنسو ضبط کرتے ہوئے جواب دیا
اچھا!!یہ لو تبسم سے بات کرو۔ بہت پریشان ہورہی تھی تمہارے لیے۔۔ یہ کہہ کر ثمرین بیگم نے ریسور تبسم کے ہاتھ میں دے دیا جو ثمرین بیگم کی آواز سن کر کمرے سے باہر آئی تھی۔
السلام علیکم ۔۔ کیسے ہیں آپ ۔۔ تبسم نے پوچھا
میں ٹھیک ہوں۔۔ تم سناﺅ۔۔ طبیعت کیسی ہے ۔
میں تو بہت اچھی بھلی ہوں۔ اور اب تم بتاﺅ گھر کب آرہے ہو؟ تبسم نے اداسی والے اندازمےں سوال کیا
انشاءاللہ جیسے ہی چھٹیاں ہوں گی ۔ آجاﺅں گا۔ تبسم کے سوال پر شہریار کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے تھے۔
اچھا گھرمیں سب کیسے ہیں۔ شہریار نے بات گھوماتے ہوئے کہا
سب ٹھیک ہیں۔ اچھا وہ ایک بات بتانی تھی آپ کو۔۔ تبسم نے شرمیلے انداز مےں جواب دیا
ہاں کہوں کیا بات ہے؟ شہریار کچھ حیران ہوتے ہوئے
خوش خبری دینی ہے آپ کو۔ تبسم نے چہکتے ہوئے کہا
خوشخبری؟ کیسی خوشخبری؟ شہریار نے معنی خیزا نداز میں سوال کیا
وہ !!آپ پاپا بننے والے ہیں ، تبسم نے شرماکر اورانتہائی ہلکی آواز میں تیز تیز کہہ دیا۔
شکر الحمداللہ!! بہت بڑی خوش خبری دی ہے تم نے ۔ شہریارنے مسکراتے ہوئے جواب دیا
اچھا !!پاپا کہاں ہیں؟ میں نے اس بات کرنی ہے۔ شہریار نے اچانک کچھ سوچتے ہوئے کہا
وہ اپنے کمرے میں ہوں گے۔ ایک منٹ رکو۔ میں انہیں بلاتی ہوں۔ یہ کہہ کر تبسم پروفیسر عبدالرشید کو بلانے ان کے کمرے میں چلی گئیں
السلام علیکم برخوردار کیسے ہو؟ پروفیسر عبدالرشید نے ریسور کان سے لگاتے ہوئے کہا
وعلیکم السلام !! پاپا میں ٹھیک ہوں۔ آپ کیسے ہیں۔
الحمداللہ بالکل ٹھیک ٹھاک، تبسم کے ہاتھوں کا کھانا کھارہے ہیں اور وزن بڑھارہے ہیں ، پروفیسر عبدالرشید نے مسکراتے ہوئے کہا
پاپا معیز صمد اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ شہریار نے اپنے والد کی بات کو اگنور کرتے ہوئے اچانک کہہ دیا۔ کیوں کہ اب اس کے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ چکے تھے۔ وہ کسی سے بات شیئر کرنا چاہتا تھا۔اس لیے اپنے والد سے بہتر اسے کوئی نہیں لگا۔
ایک منٹ رکو!!بیٹا تبسم تم زرا اپنے کمرے میںجاﺅ، میں آپ کو بلاتا ہوں۔ پروفیسر عبدالرشید نے تبسم سے کہا اور پھر جب وہ چلی گئی تو پروفیسر عبدالرشید نے شہریار سے تفصیلات معلوم کرناشروع کردی جس پر
شہریار نے تمام حالات سے آگاہ کرنے کے بعد کہا ۔
پاپا!! اب آپ نے معیز صمد کے گھر اطلاع دینی ہے اور تاکہ وہاں سے کوئی آسکے۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں انہیں اطلاع دیتا۔ اور میں اب کچھ دیر میں واپس جا رہا ہوں ، اس لیے دوبارہ رابطہ نہیں ہوپائے گا۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے والد سے اجازت لےکر فون بندکردیا۔
اپنے والد سے دل کا حال شیئر کرنے کے بعد شہریار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ایک طرف خالد سلام کی شہادت ۔ دوسری طرف معیز صمد کی سیریس حالت نے اسے اندر سے توڑ دیا تھا۔ جب کافی دیر وہ رو چکا تو اسے معیز صمد کا خیال آیا اور پھر آئی سی یو کی جانب چل دیا۔۔ ابھی وہ پہنچا ہی تھا کہ سامنے آئی سی یو کا دروازہ کھلا اور نرس بھاگتی ہوئی ایک طرف کو چلی گئی، جس کے بعد وہ سیدھا آئی سی یو میں داخل ہوگیا، تاہم جب اس نے معیز صمد کے بیڈ کی طرف دیکھا تو وہاں 3 ڈاکٹرز معیز صمد پر جھکے ہوئے تھے جو مسلسل کچھ مشینوں کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ وہ نرس پھر واپس آئی اور ساتھ ایک سینئر ڈاکٹر بھی موجود تھا، کچھ دیر وہ معیز صمد کو بچانے کی ناکام کوشش کرتے رہے مگر اچانک اسکرین پر چلنے والی دل کی دھڑکنیں خاموش ہوگئیں ۔ جس کا مطلب معیز صمد بھی جام شہادت نوش کر چکا تھا۔ شہریار بت بنا سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ کیا کرے۔پھر اچانک وہ معیز صمد کے قریب آیا اور اسے جھنجھوڑ نا شروع کردیا۔
معیز تم مجھے ایسے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔۔۔ میں اکیلا کیسے رہوں گا۔۔ تمہارے بغیر میں کیسے جیوں گا۔۔ معیز پلیز خدا کے لیے آنکھیں کھولوں یار ۔۔ خالد بھی مجھے چھوڑ کر چلا گیا اور اب تم بھی چلے گئے۔ ۔۔
معیز مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں خالہ جان کا سامنا کرسکوں ۔۔ میں نوشین کو کیا منہ دکھاﺅں گا۔۔ معیز تمہیں اٹھنا ہوگا۔۔ میری خاطر ،اپنی امی کی خاطر ۔۔ معیز پلیز خدا کےلیے اٹھ جاﺅ، اور یہ کہہ کر شہریارنے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونا شرو ع کردیا۔
ڈاکٹرز نے اسے سنبھالا اور آئی سی یو سے باہر نکال کر ایک بینچ پر بٹھا دیا۔ مسٹرشہریار، ہمیں بھی دکھ ہے کہ ایک اور سپاہی ملک کی خاطر اپنی جان دے گیا۔ تمہیں حوصلہ رکھنا ہوگا۔ یہ کہہ کر ڈاکٹر نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر دبادیا اور واپس اپنے کمرے میں چلاگیا۔ کچھ دیر بعد معیز صمد کا جسد خاکی ایک بوکس میں ڈال دیاگیا ۔
شہریار۔۔آپ معیز صمد کا جسد خاکی لے کر کراچی جائیں گے ۔ اور پورے اعزاز کے ساتھ تدفین تک وہیں رکیں گے، آپ کو ایک ماہ کی چھٹی دی جارہی ہے تاکہ آپ کچھ آرام کرسکیں۔ میجر عرفان نے شہریار سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا،جو کچھ دیر پہلے معیزصمد کی شہادت کا سن کر واپس آئے تھے۔
شہریار نے سلوٹ کرتے ہوئے یس سر کہا ۔
میجر عرفان نے چند مزید ہدایت دیں اور چلے گئے۔ شہریار نے معیز صمد کا جسد خاکی ائرایمبولینس میں رکھوایا اور اسی کے ساتھ وہ کراچی کے لیے پرواز کرگیا۔
اے شیر بہادر غازی نیں
اے کسے کولوں وی خلدے نیئں
اینھاں دشمن کولوں کی ڈرنا
اے موت کولوں وی ڈردے نیئں
یہ اشعار خالد سلام اکثر جب بھی پڑھا کرتا تھا تو معیز صمد واہ واہ کرکے اسے خوب داد دیتا۔۔ شہریار کو یہ اشعار کبھی یاد نہیں ہوسکے کیوں کہ اسے پنجابی اتنی آتی نہیں تھی ،لیکن آج جب ائرایمبولینس میں بیٹھا معیز صمد کو دیکھے جارہاتھا تو اچانک ہی اس کے ذہن میں یہ اشعار آگئے ۔
پائلٹ نے کراچی لینڈنگ کا اشارہ کرتے ہوئے ائرایمبولینس کو رن وے پر اتاردیا۔ معیز صمد کا جسد خاکی قومی پرچم میں لپٹا ہوا تھا، ائرایمبولینس سے اترتے ہی چند فوجی جیپیں او ر ایک ایمبولینس قریب آگئیں ، جس میں بارہ کے قریب جوان اور ایک میجر شامل تھا،جنہوںنے معیز صمد کے جسد خاکی کو سلوٹ کیا اور اسے فوجی انداز میں اٹھاتے ہوئے ایمبولینس میں رکھ کر معیز صمد کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باجی میں میںبھیا کو بتاﺅں گا کہ آپ مجھے بہت مارتی ہیں ۔ننھے رمیز صمدنے اپنے گال سہلاتے ہوئے نوشین سے کودھمکی دیتے ہوئے کہا
ہاں میرے بچے ، کیوں نہیں شوق سے شکایت کرنا بھیا سے۔ پھر میں بھی بتاﺅں گی کہ آپ پڑھائی سے بھاگتے ہو۔ تنگ کرتے ہو۔اورہوم ورک نہیں کرتے۔ پھر دیکھنا بھیا بھی آپ کی پٹائی کریں گے۔ نوشین نے پیار سے اسے دھمکی دی تو رمیز صمد نے فورا اپنے کان پکڑتے ہوئے کہا۔سوری آپی۔ آپ یہ بات بھیا کو مت بتانا۔
اچھا نہیں بتاﺅں گی۔ مگر آپ کو بھی وعدہ کرنا ہوگا کہ آپ اپنا ہوم ورک جلدی سے مکمل کریں گے۔ نوشین کے کہنے پر اس نے اپنا بیگ اٹھایااور پڑھائی میں مصروف ہوگیا۔

دروازے پر دستک کی آواز سن کر نوشین کی والدہ ثریا نے آواز کچن سے آواز لگائی جو کھانا پکانے کی تیاری کررہی تھیں۔ بیٹا نوشین دیکھنا کون ہے باہر۔
جی امی!! دیکھتی ہوں ۔ یہ کہہ وہ دروازے کی طرف لپکی۔
امی!!امی!! دیکھیں کون آیا ہے۔ نوشین نے خوشی سے چہکتے ہوئے آواز لگائی، اور دوڑکر کچن کی طرف چلی گئی
جب نوشین ثریا کو لے کر باہر صحن میں آئی تو شہریار کو کھڑا پایا۔
ماشاءاللہ!! میں صدقے جاﺅں اپنے بچے پر ۔ کیسے ہو شہریار پتر۔ ثریا نے آتے ہی شہریار کو گلے سے لگالیا
میں!! ٹھیک ہوں ۔ آپ لوگ کیسے ہیں۔ شہریار نے اپنے آنسوﺅں کو ضبط کرتے ہوئے کہا
ہم سب ٹھیک ہیں ۔ بیٹا معیزپتر کہاں رہ گیا۔ کیا وہ تمہارے ساتھ نہیں آیا۔۔ ثریا نے شہریار سے سوال کرتے دروازے کی طرف دیکھنا شروع کردیا
اب شہریار مکمل خاموش تھا ۔ ۔۔ شہریار دو قدم پیچھے ہٹا اور دروازے سے باہر نکل کر کچھ لمحے بعد ہی واپس اندر آگیا
شہریار پتر!!کیا ہوا۔۔ لگتا ہے معیز کا دل نہیں کررہا اندر آنے کا۔۔ نوشین ذرا دیکھنا کیا کررہا ہے تمہارا بھائی ۔ ثریا نے مسکراتے ہوئے نوشین سے کہا
ابھی نوشین دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ میجر غفران اندر آگئے ، ان ہاتھ میں قومی پرچم تھا۔
پتر آﺅ اندر آﺅ۔۔ باہر کیوں کھڑے ہو۔ثریا نے اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے میجر غفران کو اندر آنے کے لیے کہا۔
میجر غفران اندر آئے اور ثریا کو سلوٹ کیا اور قومی پرچم ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔
ثریا ان باتوں سے انجان تھی ۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کاکیا مطلب ہوتا ہے ۔ وہ اب بھی اسی انتظار میں تھی کہ اب اس کا بیٹا اندر آئے گا اور اس سے لپٹ جائے گا۔ ایک بیوہ کا واحد سہارا وہ جب چھن جائے تو اس پر کیا گزرتی ہے ابھی وہ اس سے بالکل انجا ن تھی۔ شوہر کو کھونے کے بعد بیٹے ہی تھا جو اس گھر کو چلانے میں اس کا ساتھ دے رہا تھا۔۔۔ مگر اب وہ سہارا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہوچکا تھا
ثریا نے قومی پرچم اپنے ہاتھوں میں لیا!! اور اسے چوما۔۔ آنکھوں سے لگایااورپھر سینے سے لگا کر آنکھیں بند کرلیں۔ چند لمحوں بعد آنکھیں کھولیں۔
شہریار پتر۔۔ معیز صمد کہاں ہے ۔۔ اب میرا دل ڈوب رہا ہے۔۔ کیا بات ہے؟؟ ۔دیکھوں میں ایک بیوہ ہوں۔ اور معیز صمد میرا واحد سہارا۔ خدا کے لیے مجھے بتاﺅ۔سب خیر تو ہے نا؟ ثریا نے اب بے بسی کے عالم میں شہریار اورمیجر غفران کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
شہریارجس نے ضبط کرنا کچھ حد تک سیکھ لیاتھا ۔۔مگر اب پھر سے اس کی آنکھوں میں دریا امڈ آیا ،جو باہر آنے کے لیے بیتاب تھا۔ مگر وہ جانتا تھاکہ اگر اس نے بھی ضبط پر کنٹرول نہ کیاتو پھر اس گھر کو کون حوصلہ دے گا۔ اس بوڑھی ماں کو کیسے سہارا دے گا۔۔ کیسے وہ نوشین سے آنکھ ملاپائے گا۔ نہیں۔ مجھے ہمت سے کام لینا ہوگا،شہریار نے دل ہی دل میں فیصلہ کرلیا۔
خالہ جان۔۔ معیز وطن پر قربان ہوچکا ہے ۔۔ شہریار نے اتنا کہااور خالہ کے گلے لگ گیا۔ ۔چند لمحوں تک ثریا نے کوئی بات نہیں کی ، وہ ایک مجسمہ بنی کھڑی رہی جیسے اسے دنیا کی کوئی خبر ہی نہیں رہی۔
امی!! امی!!ہوش میں آئیں ۔۔ نوشین جو پاس ہی کھڑی تھی اور شہریار کے الفاظ سنتے ہی رونا شروع کردیا تھا کہ اچانک اس نے دیکھا کہ وہ شہریارکے بازﺅں میں گرنے لگیں تھیں۔ نوشین کے اس طرح جھنجھوڑ نے پر جیسے وہ دنیا میں واپس لوٹ آئی ، میراپتر۔۔۔ وطن پر قربان ہوگیا۔۔ لیکن وہ تو مجھ سے وعدہ کرکے گیا تھا۔۔مجھ سے کہاتھا میں واپس آﺅں گا۔۔ پھر نوشین کی شادی بھی تو کرنی ہے ۔۔رمیز کو بھی فوج میں لے جانے کا وعدہ کیاتھا۔۔ایسے کیسے چلا گیا۔ نہیں ۔ نہیں۔۔۔
پتر شہریار ۔ اگر یہ تم دونوں کا مذاق ہے تو بہت برا مذاق ہے۔ تم اچھی طرح جانتے ہوں میری طبعیت ٹھیک نہیں رہتی، ایسا مذاق مت کرو۔ ثریا نے شہریار کا گریبان پکڑتے ہوئے کہا
اتنے میں چند جوان بوکس اٹھائے اندر آگئے۔ جنہیں میجر غفران نے حکم دے دیا تھا
جیسے ہی جوانوں نے بوکس نیچے رکھا ، نوشین بھاگتی ہوئی بوکس سے لپٹ گئی۔۔ بھیا!! بھیا!! کی صدائیں دینا شروع کردیا۔
باہر چیخ وپکار سن کر رمیز صمد بھی باہر آگیا، وہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی نہیں سمجھا کہ اب اس کے ناز نخرے اٹھانے والا بھائی معیز صمد اب اس جہاں میں نہیں رہا۔ وہ صرف شہریار کو جانتا تھا۔ باقی چہرے اس کے لیے انجان تھے ، رمیز صمد ماں کے قریب آکر بیٹھ گیا، جو صدمے سے نڈھال ہوچکی تھیں۔نوشین شیشے میں سے اپنے بھائی کا چہرہ دیکھ رہی تھی اور رو رہی تھی ۔ رمیز نے کچھ دیر اسے دیکھا اور پھر اس نے بھی شیشے سے اندر جھانک کر دیکھا۔
بھیا۔ امی بھیا تو یہاں سو رہے ہیں۔۔ آپی بھیا کو اٹھاﺅ نا۔۔ وہ کیوں اس میں سو رہے ہیں۔۔ مجھے بھی اس میں سونا ہے ۔۔ رمیز صمد نے نوشین کاہاتھ پکڑ کرزور دیتے ہوئے کہا۔۔اور پھر ہنسنے لگا۔۔
بھیا۔ اب میری باری ہے ۔۔
میں نے بھی اس میں سونا ہے ۔۔شہریار اور میجر غفران جو اب تک بھرپور صبر کا مجسمہ بنے ہوئے تھے۔ رمیز کی معصومانہ باتوں نے انہیں بھی رونے پر مجبور کردیا۔۔
شہریار نے فورا رمیزصمد کو اٹھایااور اپنے سینے لگالیا۔۔ میجر غفران یہ منظر دیکھ نہ سکا اور فورا باہر آگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلی میں رش لگ چکا تھا، کچھ دیر بعد پروفیسر عبدالرشید ، ثمرین بیگم اور تبسم بھی اندر آگئے ، شہریار نے ائرایمبولینس میں بیٹھنے سے پہلے ہی اپنے والد کو بتادیاتھا، اس لیے وہ بھی آچکے تھے۔
جس گھر میں کچھ دیر پہلے دوپہر کا کھانا تیار ہورہاتھا، جہاں چھوٹا بھائی اپنی بڑی بہن سے پیار جتا رہا تھا۔ جہاں اس کی واپسی کا ذکر ہورہاتھا۔ اب وہاں خوشیاں ختم ہوچکی تھیں۔۔ غم کے بادلوں نے مکمل طورپر اسے اپنی آغوش مےں لے لیاتھا ۔۔ کچھ دیر پہلے ثریا جو صرف ایک بیوہ تھی ۔۔ اب شہید کی ماں بن چکی تھی۔۔ نوشین شہید کی بہن اور رمیز صمد شہید کا بھائی بن چکا تھا۔
شہریاراور اس کے دوستوں نے باہر کے اورتدفین کے تمام انتظامات مکمل کرکے اندر آگئے تھے اب معیز صمد کے رخصت کا وقت آگیا تھا۔
ماما!! آپ خالہ کو سنبھالیں اور تبسم تم نوشین اور رمیز صمد کا خیال رکھنا۔ ہم اب تدفین کے لیے جارہے ہیں۔ شہریار نے رندھی ہوئی آواز میں کہا اورپھر فوجی اعزاز کے ساتھ جنازے کو اٹھایاگیا۔ جیسے ہی وہ جنازے کے قریب آئے تودیکھا ماں اپنے بیٹے سے مخاطب ہے۔جس کے باعث وہ چند لمحوں کے لیے رک گئے۔
پترمعیز۔۔۔ مجھے تجھ پر فخر ہے۔۔ تو اس مٹی پر قربان ہوگیا۔۔ تو چاہتا تھا نا کہ رمیز صمد بھی فوجی بنے ۔۔ میں آج تجھ سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں اسے بھی فوج میں بھیجوں گی۔۔ جا پتر ۔۔۔۔ میں تجھے اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔۔ ۔ ثریانے بیٹے کا جنازہ اٹھتے ہوئے ہلکی آواز میں کہاجیسے وہ سب سن رہا ہے۔۔۔ معیز تو نہ سن سکا مگر تبسم اور ثمرین بیگم نے سن لیاتھا۔جو اس وقت قریب ہی کھڑی انہیں حوصلہ دے رہی تھیں۔۔ اے میرے سوہنڑے رب۔ میں اپنے پتر سے راضی ہوں ۔۔۔بس تو بھی اس سے راضی ہوجا۔ اور اس کی آگے کی منزل آسان کر۔ ثریا نے اتنا کہا اور اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسوﺅں کو اپنی چادر سے صاف کیا۔
شہریار ،میجر غفران اور اس کے تمام دوستوں نے جب ثریاکی باتیں سنیں تو ان کا سینا فخر سے چوڑا ہوگیا، واقعی شہادت کا رتبہ نصیب والوں کو ملتا ہے۔ یہ ہر کسی کے نصیب میں نہیں۔
کبھی پرچم میں لپٹے ہیں ،
کبھی ہم غازی ہوتے ہیں ،
جب ہوجاتی ہے ماں راضی ،
تو بیٹے راضی ہوتے ہیں
آج واقعی ایک ماں راضی ہوگئی تھی، ماں نے کہہ دیا کہ وہ اپنا دوسرا بیٹا بھی اس مٹی پرقربان کرے گی ۔ یہ شہادت کا رتبہ کوئی کوئی سمجھتا ہے۔ لیکن ثریا اس بات کو باخوبی سمجھ گئی تھی، اس لیے اس نے معیز صمد سے وعدہ کیا کہ وہ رمیز صمد کو بھی وطن پر قربان کرنے کے لیے ایک لمحے کی بھی دیر نہیں کرے گی۔
میری وفا کا تقاضہ کے جاں نثار کروں
اے وطن تری مٹی سے ایسا پیار کروں
میرے لہو سے جو تیری بہار باقی ہو
میرا نصیب کے میں ایسا بار بار کروں
خون دل سے جو چمن کو بہار سونپ گیا
اے کاش ان میں خو د کو بھی شمار کروں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار جس کاخواب تھا وطن پر قربان ہونے کا ،آج وہ اپنی سروس پوری کرکے ریٹائر ہونے جا رہا تھا۔۔ شاید کہ اس کے نصیب میں شہادت کا رتبہ نہیں تھا۔ لیکن وہ غازی ضرور بنا ۔ اس نے اپنی سروس کے دوران کئی محاذوں پر دشمنوں کے دانت کھٹے کیے ۔۔ تبسم جو کبھی شہریار کی نوکری سے خفا رہتی تھی لیکن معیزصمد کی شہادت پر ثریا کے لفظوں نے اس کا دل چیر کر رکھ دیا تھا، وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ رتبہ کسی کسی کو ملتا ہے یہ شہادت رب نے ہر کسی کے حصے میں نہیں لکھی۔ یہی وجہ ہے کہ شہریار نے اپنی سروس پوری کی تھی ۔
آج شہریار کا بیٹا بھی پاک آرمی کا حصہ بن چکا تھااور تبسم نے اسے گھر سے رخصت کیا۔
بیٹا ۔ مجھے تجھ پر فخر ہے کہ تم اپنے ہم وطنوں کی حفاظت کے لیے جار ہے ہو۔۔ لیکن بیٹا!! یاد رکھنا کبھی دشمن کو پیٹھ دکھا کر مت بھاگنا۔۔۔ ہمیشہ اپنا سینہ سامنے رکھنا۔۔ تم ایک غازی کے بیٹے ہو، میں پہلے اس نوکری کے بہت سخت خلاف تھی۔ مگر اب مجھے سمجھ آگئی ہے ۔۔۔ شہادت کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ جا بیٹا میں تجھ سے راضی ہوں۔۔۔ پھر تبسم نے بھی سرآسماں کی طرف کیا اور ثریا کے وہ الفاظ یاد کیے جب معیز صمد کا جنازہ اٹھایا جارہاتھا۔ میرے رب تو بھی اس سے راضی ہوجا۔۔۔۔ تبسم نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا ، ماتھاچوما اور ڈھیروں دعاﺅں کے ساتھ اسے رخصت کردیا۔
آج ایک اور جوان وطن پر قربان ہونے کے لیے اپنا پیار بھرا گھر چھوڑ کر دیار دھول اڑاتی مٹی میں گم ہونے جار ہاتھا، جہاں عیش وعشرت کا کوئی نام ونشان نہ تھا، گھر کی طرح کوئی نرم بستر اسے وہاں میسر نہیں ہوناتھا۔ بس ایک جنون تھا ۔ اپنے باپ کے نقشے قدم پر چلنے کا ، اس مٹی سے کیے وعدے کو پورا کرنے کا ۔۔۔ اپنے وطن کے دفاع کا ۔۔ آج شہراز بھی اپنے باپ کے پیچھے پیچھے وطن پر قربان ہونے کا جذبہ لےکر بارڈر پر پہنچ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد

اپنا تبصرہ بھیجیں