لیاری کی خواتین: معاشرے کا مثبت چہرہ (تحریر : فلک ناز)

انتہاپسندی کا جو دور لیاری کے نوجوانوں نے دیکھا وہ ناقابل بیان ہے۔ لیاری کے نوجوانوں کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو وہ علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں یا پھر عسکریت پسندوں کے دھڑوں میں شامل ہوجائیں ۔ ایسے میں لیاری کی کئی خواتین نے معاشرے میں بہتری لانے کیلئے امن و سماجی ہم آہنگی پیداکرنے کیلئے اپنا کردار ادا کیا۔ لیاری کی نوجوان لڑکی نازیہ بلوچ بھی ایسی ہی خواتین میں سے ایک ہے جنہوں نے سخت مشکلات کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ نازیہ نے لیاری کی لڑکیوں اور خواتین کو خود مختار بنا نے کا عزم کیا اور وہ اپنے مشن پر لگ گئی تاکہ علاقے کی لڑکیاں خود مختاری کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں ۔ لیاری کی خواتین اور لڑکیوں کی رہنمائی اور ذہن سازی کرکے متعدد خواتین کو معاشرے کا کارآمد شہری بنا چکی ہیں۔ خواتین کو ہمیشہ بہت کچھ سہنا پڑتا ہے جیسے کہ ’تم یہ کام نہیں کر سکتیں‘، ’یہ خواتین کے کرنے کا کام نہیں ہے‘، ’آخر لوگ کیا کہیں گے؟‘ ’یہ ممکن نہیں ہے‘۔ ایسی ہی سب باتیں نازیہ کو بھی سننا پڑی مگر انہوں نے تمام حالات و مشکلات کے باوجود اس پرفتن دور میں بھی اپنا مشن جاری رکھا۔ نازیہ بلوچ نے لیاری میں رہتے ہوئے خواتین کومختلف سیشن کا انعقاد کرکے آگاہی دینا شروع کی۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر خواتین کو تعلیم اور امن وامان کی اہمیت بتائی جائے تو نوجوانوں کا مستقبل بہتر بنایاجاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت لیاری میں گینگ وار اپنے عروج پر تھا اس دور میں خواتین کیلئے رضاکارا نہ طور پر کام شروع کیا اور خواتین کو پڑھانے کا بندوبست کیا۔
نازیہ بلوچ 2013کے دورا ن اپنی نوعمری کے دنوں کو یاد کر تے ہوئے ایک دم سہم سی جاتی ہیں کہ ان کا کہنا تھا کہ گروہوں کے درمیان لڑائیاں، منشیات عام تھی ہر تیسرا شخص اس میں ملوث تھا اور ہمارا علاقہ تباہی کی طرف جارہا تھا جس کا کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا دن بہ دن عدم تشدد، عدم برداشت، ا نتہا پسندی، جارحیت اور جہالت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔اس وقت ہم نے اپنی کچھ دوستوں کے ساتھ ملکر گھر بیٹھی ہوئی خواتین پر کام کر نے کا سوچا۔ ہم یو نیورسٹی سے واپس آکر گھر گھر جاکرخواتین کو راضی کرتیں کہ اب ہمیں اپنے علاقے کے نوجوانوں کو کو سمجھا نااور روکنا ہے۔اپنے بچوں کو گینگسٹر بننے سے روکنا ہے۔ بس ہم نے نوجوا وں کو مصروف رکھنے کیلئے کچھ بنیا دی کورس جس میں انگریزی زبان بھی شامل تھا، پڑھا نا شروع کئے۔ کلاسز کے دوران ہم نے نوجوانوں کی ذہن سازی شروع کی کہ کیسے سماجی ہم آہنگی، رواداری اور برداشت پیدا کیا جاسکتاہے ؟اور کیسے اس کے ذریعے ہم اپنے علاقے میں امن قائم کرسکتے ہیں۔ جو لڑکیاں فیس نہیں ادا کر سکتیں تھیں انہیں بھی شامل کیا اور پھر اسے بلوچ ایجوکیشن ایسوسی ایشن موومنٹ کا نام دیا۔ اس دوران دن بہ دن حالات خراب ہوتے جارہے تھے۔ ایک دفعہ ہم اپنے علاقے میں آگاہی مہم چلارہے تھے تو ہمیں ایک نامعلوم شخص نے موبائل فو ن لا کر دیا کہ آپ بات کرو جب میں نے ان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ لیاری کی عورتوں کو خراب نہیں کرو، عورتوں کو گھر میں رہنا ہے ، اپنا یہ ادارہ بند کرو مگر میں نے ان کی بات پر توجہ نہیں دی جبکہ اس کے بعد سے جو لڑکیاں میرے ساتھ تھیں ا نہوں نے آنا بند کردیا پھر کچھ د نوں بعدہی مقامی ا نتہاپسندوں گروہوں کے درمیا ن بہت تصادم ہوئے جس کی وجہ سے ہمیں اپنا یہ سینٹر بند کرنا پڑا۔
اس کے بعد ہم ماڑی پور شفٹ ہوگئے اور پھر میں ے ۲۰۱۵میں ماڑی پور میں کا م شروع کیا وومین فار پیس کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنایا۔ جہاں ہم خواتین کو قانو نی معاونت فراہم کرتے تھے،ہم نے خواتین کے نفسیاتی مسائل پربھی کام کیا۔ ماڑی پور میں ایک خواتین کیفے قائم کیا جس کا مقصد خواتین کو تحفظ فراہم کر نا اور ان کے فارغ اوقات کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کروانا تھا تاکہ خواتین کو ایک طرح کی تفریح کے ساتھ ساتھ مکالمے کے مواقع بھی میسر آسکیں۔ کیو نکہ ماڑی پورکی خواتین کے پاس ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں وہ مل بیٹھ کر اپنے مسائل پر بات چیت کرسکیں۔ جبکہ لڑکیوں کیلئے ایک لائبریری کار نر بھی بنایا گیا۔ آجکل نازیہ بیک وقت لیاری اور ماڑی پور میں خواتین کو معاشرے کا کارآمد شہری بنا نے کیلئے کام کررہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں نازیہ کا کہنا تھا کہ بطور عورت ہمیشہ صنفی امتیاز کا سامناکر نا پڑا لیاری اور ماڑی پور جیسے علاقے میں خواتین سے ملنا اور ان کے ساتھ کام کرنا ا نتہائی مشکل کام تھا۔شروع شروع میں لوگوں نے تنقید کی اور ہم پر الزامات لگائے کہ ہم نوجوا وں کو بگاڑ نا چاہتے ہیں مگرہم نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ہم لوگوں کی تنقید کے مناسب جوابات تلاش کرتے اور اپنی طرف سے بھر پور مطمئن کر نے کی کوشش کرتے۔ اب ہم 2022 میں داخل ہوچکے ہیں اور آج ہماری کی ہوئی محنت ر گ لارہی ہے اب وقت بدل گیا ہے خواتین اب اپنے گھروں تک محدود نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں صرف شادیوں یا جنازوں میں دیکھا جاتا ہے۔ آج لیاری کی خواتین ہمارے شا نہ بشا نہ ہے ہمارے ساتھ کام کررہی ہیں لیاری میں کئی ایسے مراکز ہے جہاں نوجوان لڑکے و لڑکیاں مثبت سرگرمیاں آزادی سے انجام دے رہے ہیں اور لیاری کا مثبت چہرہ سامنے لارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں