عوام محض ووٹ کیلیے رہ گئے ہیں (تحریر : وسیم احمد)

ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باشندے ہیں، یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر طرح کا اختیار ہے کہ کسی بھی پاکستانی باشندے پر کوئی بھی تہمت لگا کر اسے پابند سلاخ کر سکتے ہیں تاہم اگر پاکستانی شہری صحت جرم سے انکار کر دے تو اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالتوں میں زندگی بھر دھکے کھانے ھو نگے، بعض اوقات تو مرنا بھی پڑتا ہے پاکستان میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جب عدالت نے کسی شخص کو بے قصور قرار دیا تو اسکی موت واقع ہو چکی تھی لہذا قبر میں دفن شخص کو عدالتی بے گناہی کی کیا ضرورت اسے تو اب اوپر والے نے انصاف فراہمکرنا ہے ۔ عوام عدالتی نظام کو درست کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتے ،لیکن جج کو اپنے ٹیکس سے تنخواہ دے سکتےہےں۔
مملکت پاکستان میں پارلمینٹرین میں سستی اشیاءکے لیے کینٹین مفت، سفری سہولیات بمعہ ہائی جہاز سفرو مفت، علاج معالجہ و مفت، رہائش مفت ،پیٹرول مفت اورمفت پروٹوکول تو مل سکتا ہے مگر عوام کو یہ چیزیں مفت کے بجائے مناسب دام میں بھی دستیاب نہیں۔اس کے لیے پارلیمینٹرین کبھی بات نہیں کرے گا مگر اسی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے وہ تمام سہولیات حاصل کرے گا جس کی امید پر عوام اسے منتخب کرتی ہے ۔مملکت پاکستان میں بیورو کریٹ کا نظام ھی اسقدر شاندار ہے کہ ہر بیورو کریٹ کا والد یا والدہ جج ، سیاستدان اور صنعت کار یا بزنس مین ہوں گے جن کی تقرری کا مقصد عوام کو فوری انصاف پہنچانا مقصود ھوتا ہے مگر یہ لوگ عوام کو اپنے دفاتر میں دستیاب تک نہیں ہوتے ہفتہ ،ہفتہ دفاتر تک نہیں آتے مگر تنخواہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے وصول کرتےہیں ۔
دودھ کی قیمت بڑھ جائے تو عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ دودھ کا استعمال نہ کریں ۔ٹماٹر کا ریٹ بڑھ جائے تو کہا جاتا ہے ٹماٹر کا استعمال ترک کردیں ۔آٹا کا بحران ہو تو کہا جاتا ہے کہ کم کھائیں ،سلم نظر آئیں۔ گھی ، ڈیزل، پیٹرول،کوکنگ آئل کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہو تو عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھی ہیں، کم نہیں کرسکتے ۔ جانوروں میں کوئی بیماری یا وباءپھیل جائے تو اسکے علاج کے بجائے گوشت نہ کھانے کا مشورہ مفت مل جاتا ہے۔ گیس پانی اور بجلی دستیاب نہ ہوتویہ کہہ کر جان چھڑادی جاتی ہے کہ سابق حکومتیں چور تھیں انہوں نے عوام کے لیے کچھ نہ کیا۔
ہمارے سیاستدان ، بیورو کریٹ اور صنعت کار اس مملکت میں عوام کی خدمت کرتے کرتے دنیا کے امیر ترین امراءمیں شامل ہوگئے، مگر عوام آج بھی کھانے پینے کی اشیاءسے محروم، بنیادی حقوق صحت اور تعلیم سے محروم، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کرکہ مٹی دھول سے دمہ اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ، سیوریج سسٹم تباہ شدہ ،گیس ،پانی اور بجلی سے محروم، غرض میرے عزیز ہم وطنوں آپ صرف ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔ سہولیات حاصل کرنے کے لیے آپ کو عوام سے بلند ہو کر اٹھارہ گریڈ سے اوپر والے لوگوں کی صف میں شامل ہونا پڑے گا ورنہ ساری زندگی ووٹ کاسٹ کرتے رہیں گے، مگر بنیادی حقوق آپ کو نہیںملیں گے۔سوچیے گاضرور

اپنا تبصرہ بھیجیں