یونیسف کا پاکستان (محمد عار ف میمن)

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے جس طرح دنیا بھرمیں اپنی خدمات کا لوہا منوایاوہیں پاکستان میں بھی ان کی خدمات قابل ستائش ہیں۔یونیسیف وطن عزیز میں 1948 سے بنیادی خدمات بشمول تعلیم، صحت، غذائیت، تحفظ، پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے پروجیکٹس پر کام کررہا ہے۔ یہ پروجیکٹس زیادہ ضرورت مندعلاقوں اور لوگوں کے لیے ہے جو حکومتی رعایت سے یکسر محروم ہیں۔ یونیسیف ہنگامی حالات کے دوران انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی ہر اول دستے کا کردار ادا کررہا ہے۔
پاکستان میں حالات جیسے بھی رہے ہو ں ، یونیسیف اپنے مشن کو مکمل کرنے میں جتا رہا، یہ ہی وجہ ہے کہ آج جب پورا ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے تو ایسے میں یونیسیف نے ایک مرتبہ پھر اپنی خدمات پاکستانیوں کے لیے پیش کی ۔ ان خدمات میں یونیسیف نے صحت، غذائیت ، تعلیم ،تحفظ اور پانی جیسے منصوبے لے کر میدان میں اتری اور دیکھتے ہی دیکھتے ان علاقوں تک رسائی حاصل کی جہاں کسی انسان کا جانا ممکن نہ تھا۔
2009-2010کے سیلاب کے بعد جب میں سی سی کے ایک پروجیکٹ میں بطور فیلڈ ریسرچر کے طورپر ڈسٹرکٹ بدین گیا تو وہاں میں نے اورمیری ٹیم نے یونیسیف کو ہر گاﺅں ، ہر دیہات میں خیمہ بستیوں کے ساتھ پایا۔ جہاں خیمہ اسپتال اور ان میں موجود اعلیٰ کوالیفائیڈڈاکٹرکی ٹیماورساتھ میں خدمت گار ہر وقت اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصرو ف نظر آئے ۔ ہمارا کام سروے کا تھا ہم جس گاﺅں میںجاتے وہاں ہمیں یونیسیف کا کوئی نہ کوئی پروجیکٹ ضرور نظرآتا۔ کہیں اسپتال،کہیں ڈسپنری، کہیں اسکول تو کہیں صاف پانی کے آراوپلانٹ دکھائی دیے جن سے وہاں کی آبادی شب وروز مستفید ہورہی تھی۔
ہم ڈبلیو ایف پی کے پروجیکٹس پر کام کررہے تھے ،جس میں غذائی قلت کو پورا کرنے کے لیے پورے سندھ میں سروے کیاگیا تھا۔ اس کے بعد بھی کئی پروجیکٹس کے دوران ہمیں پاکستان کے مختلف ڈسٹرکٹ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہاں بھی ہم نے یونیسیف کو ہر جگہ لوگوں کی خدمت کرتے دیکھا۔ 2011میں سسنٹیبل ڈیولپمنٹ کے ایک بڑے پروجیکٹ میں پھر سندھ کا رخ کیا۔ یہ سروے ایگری کلچر سے متعلق تھاجس میں لوگوں کی زمینیں سیلابی پانی سے تباہ ہوگئیں تھیں ۔ اس دوران بھی میںنے یونیسیف کو پہلے سے موجود پایا جو ایگری کلچر کے کاموںمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی۔ جہاں جہاں سیلاب نے تباہی مچائی وہاں وہاں یونیسیف نے اپنے پروجیکٹس شروع کردیے تھے جن کا مقصد ان زمینوں کو پھر سے زراعت کے قابل بناناتھا۔

یونیسیف اپنے دائرے اختیار میں رہتے ہوئے حکومتی سطح پر کام کرتی ہے ، جہاں حکومتی نمائندے نہیں پہنچ پاتے وہاں یونیسیف پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے ایک پروجیکٹس کے دوران ہم نے کچھ ایسا بھی دیکھا جو دل کو بہت اچھا لگا، تاہم ہمارے لوگوں کی لالچ اور کرپشن کی وجہ سے کئی ایسے پروجیکٹس کچھ عرصے بعد ہی بند کردیے گئے۔ ان میں سے ایک پروجیکٹ ایسا بھی تھا جو گاﺅں دیہاتوں کے لیے بہترین تھا، ڈبلیو ایف پی اور یونیسیف کے اشتراک سے شروع کیے گئے اس پروجیکٹس میں ایسے گاﺅں اور دیہات شامل کیے گئے جہاں تعلیم کی شرح زیرو تھی۔ وہاں یونیسف نے اسکول کھولے اور اساتذہ بھرتی کیے ، جب کہ ڈبلیو ایف پی نے والدین کو ایک آفر دی کہ اگر آپ اپنے بچوں کو اسکول بھجیں تو آپ کو ہفتہ وار راشن دیاجائے گا، اس پروجیکٹ کے تحت اساتذہ کو بھی راشن دیاجارہاتھا، لیکن یہاں بھی کرپشن جیت گئی اور پروجیکٹ ہار گیا۔ جس کے بعد چند ماہ بعد ہی یونیسیف نے اس پروجیکٹ کو بند کردیا۔ جہاں جہاں اسکول تعمیرکیے گئے تھے وہ اسکول بعد میں وڈیروں کی اوطاق بنے او رکئی اسکولوں میں جانوروں کو رکھنے کا بندوبست کیاگیا۔
ایسے ہی ایک پروجیکٹ مےں ہمیں سروے کا کام سونپا گیا ۔ہم سکھر، دادو، سکرنڈ، میرپورخاص ، عمر کوٹ سمیت کئی ڈسٹرکٹس میں گئے ۔ پروجیکٹس کا مقصد وہاں غذائی قلت کو پرکھنا اور جہاں قلت ہو وہاں امدادی کارروائی شروع کرنا تھا۔ ہم نے جب گاﺅں دیہاتوں میں سروے شروع کیا تو ہمیںمعلوم ہوا کہ وہاں پر لوگوں نے ڈبلیو ایف پی کے دیے ہوئے راشن کو بیچنا شروع کیاتھا۔ یہ راشن کتنی جدوجہد کے بعد ان لوگوں تک پہنچایا گیا تھا اس بات کا اندازہ لگاناکسی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ راشن پہنچانے سے قبل سروے اور رجسٹریشن کا عمل شروع کیاجاتا ہے ، جس کے بعد خوراک کو محفوظ رکھنے کے لےے بندوبست کرنا ہوتا ہے لیکن جب راشن پہنچ جاتا ہے تو وہاں لوٹ مار شروع کردی جاتی ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے سروے کے دوران ہی کچھ غذائیت سے بھرپور بسکٹ بھی فراہم کیے تھے ،جن کا مقصد فوری طورپر غذاءفراہم کرنا تھا۔ لیکن سروے کے دوران ہم نے اس کا الٹ دیکھا، ہمیں معلوم ہوا کہ لوگوں نے وہ بسکٹ چائے میں ڈبوڈبو کر کھانا شروع کردیے تھے، چھوٹے معصوم بچوں کے ہاتھوں میں وہ بسکٹ نظرآئے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی جسم اتنی غذا ءبرداشت نہیں کرسکا اور وہاں مختلف پیٹ کی بیماریاں پھیلناشروع ہوگئیں۔ جس پر یونیسیف نے فوری طورپر خیمہ اسپتال قائم کرکے علاج معالجہ شروع کردیاجب کہ وہ بسکٹ ان لوگوں سے لے کر بدلے میں چنے کی دال ، آٹا، گھی ،تیل فراہم کرناشروع کیا۔ اس ساری کارروائی کے دوران ہم وہیں رہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگوں نے مفت میں ملنے والے راشن کو بے دریغ استعمال کیااور باقی کا راشن دکانوں پر بیچنا شروع کردیا تھا۔ کئی ایسے دیہات بھی سامنے آئے جہاں راشن پہنچا ضرور مگر مستحقین تک نہیںبلکہ وڈیروں کی اوطاق کی نذر ہوا۔ جہاں سے وہ گوداموں کی زینت بنے، اور مستحق لوگ ہمارے آگے ہاتھ جوڑ کر ہم سے کھانا مانگتے ملے۔ ایسے میں یونیسیف نے پھر کمرکس لی اور ایک مرتبہ پھر سے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا اور ان لوگوں کو خوراک اورصحت کی سہولیات فراہم کرنا شروع کردیں۔
آج کل پاکستان ایک مرتبہ سیلاب کی زد میں ہے اور ایسے میں جہاں دیگر فلاحی ادارے میدان اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں وہیں یونیسیف نے بھی اپنے منصوبوں کا آغاز کردیا ہے ۔ ان منصوبوں میںجہاں خوراک ، صحت ،تعلیم اور پانی شامل ہیں ،وہیں تعمیراتی بحالی کا مشن بھی شروع کردیا ہے۔ یونیسیف پاکستان میں ہر مشکل گھڑی میں قوم وحکومت کے شانہ بشانہ کام کرتا رہا ہے اورآج بھی یہ ادارہ اپنے تمام وسائل کے ساتھ پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔

یونیسیف پاکستان کو پولیو فری بنانے میں بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اس ضمن میں بھی وہ کروڑوں روپے ماہانہ بنیا د پر خر چ کررہا ہے۔ لیکن پولیو فری پاکستان کا خواب کب شرمندہ تعبیرہوگا یہ کہنا مشکل ہے ۔ اس کی وجہ حکومتی اداروں کی ناکامی اور نااہلی ہے جس کی وجہ سے وطن عزیز سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہو پارہا۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ لوگ ہیں جو محض چند روپوں کی خاطر اس بیماری کو ختم نہیں ہونے دیتے۔ کم تعلیم یافتہ لوگوں کو پڑھے لکھے اور قابل لوگوں پر بٹھا کر کام کیاجارہاہے ،جن میں ایل ایچ ڈبلیو، ڈرائیور، الیکٹریشن ،ٹیکنیشن او ر ناجانے کتنے ایسے پرائیوٹ لوگ ہیںجو بطور یوسی ایم اوکام کرکے اس پروگرام کو نقصان پہنچانے میںمصروف عمل ہیں۔ یہ تمام تر کوتاہی ڈی سیز اور ڈی ایچ او کے سر جاتی ہے جن کی ایماءپر ایسے لوگوں کو بطور یوسی ایم اوز لگایاجاتا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کی سخت مانیٹرنگ اور پالیسز بھی یہاں آکر ناکام ہوجاتی ہیں جب کسی یوسی ایم او کو ہٹانے پر ڈی سیز اور ڈی ایچ او ز سے ان لوگوں کے لیے سفارش آنا شروع ہوجاتی ہیں۔
یونیسیف پاکستان کے لیے اپنی خدمات جس طرح پیش کررہا ہے بطور قوم ہم اس ادارے کے مشکور ہیں جو ہر مشکل وقت میں ہمارے شانہ بشانہ رہتا ہے۔ ایسے میں ہمیں بھی ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنا کام بہتر انداز میں کرسکیں، ناکہ ان کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرکے اپنے محسن کو کھودیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں